صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 232 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 232

صحيح البخاری جلد۳ - ٢٥ - كتاب الحج عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ شعبہ سے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے، عمرو نے سعید بن الْمُسَيَّبِ قَالَ اخْتَلَفَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ متب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت علی رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَهُمَا بِعُسْفَانَ فِي اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے تمتع سے متعلق جبکہ وہ الْمُتْعَةِ فَقَالَ عَلِيٌّ مَا تُرِيدُ إِلَّا أَنْ دونوں (مقام) عسفان میں تھے؛ اختلاف کیا۔حضرت تَنْهَى عَنْ أَمْرٍ فَعَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله علیؓ نے کہا: آپ کا مقصد کیا ہے کہ آپ اس عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُثْمَانُ دَعْنِي عَنْكَ کام سے منع کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے کیا؟ قَالَ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَلِيٌّ أَهَلَّ { حضرت عثمان نے کہا: جانے دیجئے؛ بحث چھوڑئے۔سعید کہتے تھے ہم جب حضرت علی نے یہ دیکھا بِهِمَا جَمِيْعًا۔اطرافه: ١٥٦٣ تشریح : تو انہوں نے ان دونوں کا اکٹھے ہی احرام باندھا۔التَّمَتَّعُ وَالْقِرَانُ وَالْإِفْرَادُ بِالْحَجّ الہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَج فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ۔(البقرة : ۱۹۷) یعنی جو حج کے ساتھ عمرہ سے فائدہ اٹھائے تو جو قربانی میسر ہو ، کی جائے۔عمرہ کے لغوی معنی ہیں آباد رکھنا۔نیز کہتے ہیں: عَمَرَ اللَّهَ إِذَا عَبَدَهُ، يَعْمُرُ رَبَّهُ أى يُصَلِّي وَيَصُومُ۔یعنی اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور نماز پڑھتا ہے اور روزے رکھتا ہے۔نیز اس کے معنی ہیں زیارت کرنا (لسان العرب، تحت لفظ عمر اور از روئے اصطلاح شریعت سال میں کسی وقت میقات سے احرام باندھنا، بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کا طواف کر کے احرام کھول دینا، حجامت کرانا اور اگر چاہے تو قربانی کرنا۔عمرہ کی دو صورتیں ہیں۔اول یہ کہ حج سے پہلے حج کے مہینوں ہی میں میقات سے عمرہ کا احرام باندھے اور نیت یہ ہو کہ عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ مکرمہ ہی میں ٹھہرے گا۔یہاں تک کہ حج کا موسم آنے پر حج کرنے کے بعد وطن کو لوٹے گا۔یہ صورت تمتع کی ہے۔عمرہ کی دوسری صورت قران والی ہے۔یعنی حج کا احرام باندھتے وقت عمرہ کی بھی نیت کرے اور احرام نہ کھولا جائے؛ جب تک کہ حج کے بعد عمرہ بھی نہ کر لے۔یہ عمرہ حج سے پہلے بھی ہو سکتا ہے اور بعد بھی۔قران میں احرام باندھنے کی تین صورتیں ہیں۔پہلی صورت میں احرام باندھتے وقت حج و عمرہ دونوں کی نیت کی جائے۔دوسری یہ کہ عمرہ کا احرام باندھا جائے پھر معالج کے موقع پر حج کی نیت کر لی جائے۔تیسری یہ کہ حج کا احرام باندھا جائے پھر اس کے بعد عمرہ بھی کر لیا جائے۔قران کی پہلی صورت پر تو سب ائمہ کا اتفاق ہے مگر باقی دو صورتوں سے متعلق اختلاف رائے ہے۔افراد کے معنی ہیں الگ کرنا۔یعنی حج کا الگ احرام باندھنا اور مناسک حج سے فارغ ہونے کے بعد مواقیت حج کے علاوہ کسی اور مہینے میں لفظ الا کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں الی“ ہے (فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۵۳۳) ترجمہ اس کے مطابق - ے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفر ۵۳۳) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔ہے۔