صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 231
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۳۱ ٢٥ - كتاب الحج عَطَاءٍ أَسْتَفْتِيْهِ فَقَالَ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ میں عطاء بن ابی رباح) کے پاس ان سے مسئلہ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَجَّ مَعَ پوچھنے کے لئے گیا۔ انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَاقَ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔ انہوں نے الْبُدْنَ مَعَهُ وَقَدْ أَهَلُوْا بِالْحَقِّ مُفْرَدًا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت حج کیا تھا کہ فَقَالَ لَهُمْ أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِكُمْ جب آپ اپنے ساتھ قربانی کے جانور لے گئے تھے اور لوگوں نے صرف حج کا ہی احرام باندھا تھا۔ آپ بِطَوَافِ الْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ نے ان سے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کر کے اور صفا و وَقَصَرُوا ثُمَّ أَقِيمُوا حَلَالًا حَتَّى إِذَا مروہ کے درمیان سعی کر کے احرام کھول دو اور بال كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُوْا بِالْحَج کٹالو۔ پھر اسی طرح بغیر احرام ٹھہرے بر احرام ٹھہرے رہو۔ یہاں وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً فَقَالُوْا تک کہ جب آٹھویں تاریخ ہو تو حج کا احرام باندھو اور كَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ جو تم نے پہلے کیا تھا اس کو تمتع کر دو۔ انہوں نے کہا: ہم فَقَالَ افْعَلُوْا مَا أَمَرْتُكُمْ فَلَوْلَا أَنِّي اسے منع کیسے کر دیں بحالیکہ ہم نے حج کا نام لیا تھا۔ سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو جو حکم دیا ہے، اسے کرو۔ اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں أَمَرْتُكُمْ وَلَكِنْ لَّا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ بھی ویسا ہی کرتا جیسا میں نے تم کو حکم دیا ہے لیکن حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَفَعَلُوْا ۔ {قَالَ جب تک قربانی اپنے ٹھکانے نہ پہنچ جائے وہ کام جو أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أَبُو شِهَابٍ لَيْسَ لَهُ کہ حقیقت میں حرام ہے مجھ سے اگر ہو جائے تو حلال حَدِيْثٌ مُسْنَدٌ إِلَّا هَذَا ۔ * } نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ انہوں نے احرام کھول ڈالے۔ ابو عبد اللہ نے کہا: ابو شہاب کی یہی ایک مستند حدیث ہے۔ } اطرافه: ١٥٥٧، 15٧٠، 1651 ، ١785، ٢٥٠٦ ، ٤٣٥٢، ٧٢٣٠، ٧٣٦٧۔ ١٥٦٩ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۱۵۶۹: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَعْوَرُ عَنْ ) کہا :) حجاج بن محمد اعور نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۵۳۳) الباری جزء ۳۰ حاشیه صفحه ۵۳۳) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔