صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 227
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۲۷ ٢٥ - كتاب الحج لَا بَأْسَ الْفِرِي قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ حضرت صفیہ کہنے لگیں: میں شاید آپ کو روک رکھوں عَنْهَا فَلَقِيَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گی ۔ آپ نے فرمایا: اے بھلی مانس ! کیا تم نے دسویں وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَّكَّةَ وَأَنَا تاریخ طواف نہیں کیا تھا تاریخ طواف نہیں کیا تھا۔ کہنے لگیں :: میں نے کہا کہ ہاں کیوں نہیں ۔ (طواف تو کر چکی ہوں۔ ) آپ نے فرمایا: مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ کوئی حرج نہیں؛ کوچ کرو کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مُنْهَبِطُ مِّنْهَا ۔ صلى الله کہتی تھیں: پھر نبی علیہ مجھ سے ملے اور آپ اس وقت مکہ سے چڑھائی پر جارہے تھے اور میں مکہ کی طرف آ رہی تھی یا کہا: میں چڑھائی پر جا رہی تھی اور آپ اُتر رہے تھے۔ إطرافه ٢٩٤ ، ٣٠٥، ٣١٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، 1516، 1518، 1556، 1560، ،١٧٥٧، ١٧٦٢، ١٧٧١ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱١٥٦٢، ١٦٣٨، ٦٥٠ ،٤٣٩، ٤٤٠١۵ ،۲۹۸۴ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸۶ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ٦١، ٧٢٢٩۵۷ ،۵۵۵۹ ،٤٤٠٨، ٥٣٢٩، ٥٥٤٨ ١٥٦٢ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۵۶۲: عبداللہ بن یوسف (تنیسی ) نے ہم سے يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ بیان کیا، کہا :) مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ ابو الاسود محمد بن عبدالرحمن بن نوفل سے، ابوالاسود نے عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عروہ بن زبیر سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ سے روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے اور ہم الْوَدَاعِ فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةٍ وَعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور وہ بھی جنہوں نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا اور ہم میں سے وہ بھی تھے جنہوں نے حج کا احرام بِالْحَجِّ وَأَهَلَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ باندھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَأَمَّا مَنْ أَهَلَّ باندھا۔ وہ جنہوں نے حج کا احرام باندھا تھا یا حج اور بِالْحَجِّ أَوْ جَمَعَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لَمْ عمرہ کو اکٹھا کیا تھا؟ انہوں نے احرام نہیں کھولے جب عفری کا معنی ہے بانجھ اور خلقی یعنی بال کاٹنے والی لیکن یہاں یہ الفاظ اپنے ظاہری معنوں میں نہیں بلکہ ان سے مراد اس اضطراب کا اظہار ہے جو بعض وقت انسان ایسے موقع پر محسوس کرتا ہے۔ مفہونا اے بھلی مانس یا اللہ کی بندی مراد ہے۔