صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 226 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 226

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۲۶ ٢٥ - كتاب الحج باب ٣٤ التَمَتَّعُ وَالْقِرَانُ وَالْإِفْرَادُ بِالْحَجِّ وَفَسْخُ الْحَجِّ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ مَّعَهُ هَدْي تمتنع اور قرآن اور مفرد حج کرنا اور جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اس کا حج فسخ کرنا ١٥٦١: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ حَدَّثَنَا ۱۵۲۱: عثمان ( بن ابی شیبہ ) نے ہم سے بیان کیا، جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ (کہا: ) جریر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا منصور نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے اسود سے، خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسود نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وَلَا نُرَى إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا (وہ کہتی تھیں: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله اور ہم یہی سمجھتے تھے کہ یہ حج ہے۔ جب ہم (کے میں ) عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَّمْ يَكُنْ سَاقَ الْهَدْيَ من است * ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر نبی علی صلى الله نے حکم دیا: جو قربانی کا جانور نہ لایا ہو وہ احرام کھول أَنْ يَحِلَّ فَحَلَّ مَنْ لَّمْ يَكُنْ سَاقَ ڈالے۔ چنانچہ جو قربانی نہیں لائے تھے انہوں نے الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ فَأَحْلَلْنَ احرام کھول ڈالے اور آنحضرت ﷺ کی ازواج قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَحِضْتُ قربانی نہیں لائی تھیں۔ اس لئے انہوں نے بھی احرام فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ کھول ڈالے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں : الْحَصْبَةِ قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ يَرْجِعُ مُجھے حیض آگیا۔ اس لئے میں نے بیت اللہ کا طواف النَّاسُ بِعُمْرَةِ وَحَجَةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا نہیں کیا۔ جب محصب کی رات ہوئی ( حضرت عائشہ) نے کہا: یا رسول اللہ ! لوگ تو عمرہ اور حج کر کے لوٹیں بِحَجَّةٍ قَالَ وَمَا طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا گے اور میں صرف حج ہی کر کے واپس ہوں گی ۔ آپ مَكَّةَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبِيْ مَعَ أَخِيْكِ نے فرمایا: کیا تم نے ان راتوں میں طواف نہیں کیا تھا إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهِلَّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُكِ جب ہم مکہ میں آئے تھے؟ میں نے کہا نہیں ۔ آپ كَذَا وَكَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا نے فرمایا: اچھا تم اپنے بھائی کے ساتھ ہے تعلیم تک جاؤ۔ حَابِسَتَهُمْ قَالَ عَقْرَى حَلْقَى أَوَ مَا وہاں سے عمرے کا احرام باندھ لو۔ پھر عمرے سے طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ قُلْتُ بَلَى قَالَ فارغ ہو کر فلاں جگہ پر مجھ سے مل جانا۔ (ام المؤمنین )