صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 225 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 225

۲۲۵ ٢٥ - كتاب الحج صحيح البخاری جلد ۳ مہینے مقرر کئے گئے ہیں۔حج کی نیت کرنے اور اس کے لئے احرام باندھنے کی وجہ سے ہی شوال اور ذیقعدہ کو بھی حج کے مہینے قرار دیا گیا ہے۔محولہ بالا آیت کے دوسرے حصے فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ نے پہلے حصہ کی تشریح کر دی ہے۔یعنی ان تین مہینوں میں حج کی نیت کی جائے۔جملہ کی ترکیب یوں ہوگی: مَوَاقِيْتُ الْحَجَ اَشُهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ یعنی بیت اللہ کا قصد کرنے کے لئے چند تین مہینے ہیں۔امام موصوف نے دونوں آیتوں کو اکٹھا کر کے آیت نمبر ۱۹ سے آیت ۱۹۸ کی تشریح کی ہے۔حضرت ابن عمرؓ اور حضرت ابن عباس کی روایات کو حاکم اور بیہقی نے مذکورہ بالا الفاظ میں اور ابن جریر نے قدرے تغیر لفظی سے نقل کیا ہے جو مفہوما ایک ہی ہیں (فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۵۳۰،۵۲۹) حضرت عثمان کی جس ناپسندیدگی کا عنوان باب میں ذکر کیا گیا ہے؛ اس کے متعلق واقعہ یہ ہے کہ جب عبد اللہ بن عامر نے خراسان فتح کیا تو انہوں نے بطور شکرانہ خراسان کے شہر نیشا پور سے ہی حج کی نیت کر کے احرام باندھ لیا تھا۔خلیفہ وقت کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے اسے ناپسندیدہ کیا۔اسی زمانہ میں خراسان اور مکہ کے درمیان فاصلہ طے کرنے کے لئے اڑھائی تین ماہ خرچ ہوتے تھے۔گویا حج کے مہینوں سے قبل انہوں نے احرام باندھا جو جائز نہ تھا۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۳۰) امام مالک کے نزدیک اگر کوئی شخص میقات زمنی سے قبل احرام باندھ لے تو گواس کا یہ فعل مکروہ ہوگا ،مگر اس کا احرام باندھنا درست ہوگا۔بعض فقہاء یہ جائز نہیں سمجھتے۔امام شافعی کے نزدیک اس کا یہ احرام صرف عمرہ کے لئے ہوسکتا ہے۔حج کے لئے نہیں۔کیونکہ عمرہ سال میں ہر وقت کیا جا سکتا ہے۔جمہور اشهر معلومات سے شوال، ذیقعدہ کے مہینے اور ذوالج کے صرف دس دن مراد لیتے ہیں۔مگر امام مالک کے نزدیک ذوالنج کا سارا مہینہ شامل ہے۔اشهر جمع مکسر ہے جو کم از کم تین مہینوں پر اطلاق پا سکتا ہے۔اس لئے ان کے نزدیک اگر کوئی شخص طواف افاضہ ذوالحج کے خاتمہ پر کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔میقات کے معنی مقررہ وقت یا مقررہ جگہ۔میقات زمنی کے متعلق مذکورہ بالا اختلاف کی تفصیل کے لیے دیکھئے: عمدة القارى جزء ۹ صفحه ۱۹۱ - نیز بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في ميقات الزمان۔۔۔۔۔۔۔۔ضَيْرٍ مِنْ صَارَ يَضِيرُ امام بخاری نے روایت نمبر ۱۵۶۰ کے آخر میں لفظ صیر کی جو گردان کی ہے وہ اپنی رائے ظاہر کرنے کی غرض سے ہے۔یعنی معین میقات سے قبل احرام حج باندھنا نص صریح اور سنت نبویہ کے خلاف ہے اور جائز نہیں۔مقررہ حدود کی پابندی ضروری ہے ، نہ صرف میقات زمنی بلکہ میقات مکانی کی بھی۔جیسا کہ حضرت عائشہ نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد کی تعمیل میں حدود حرم سے باہر جا کر احرام باندھا۔اس لئے روایت کے آخر میں لفظ ضر کی لغوی تشریح بلا وجہ نہیں۔بلکہ اسی ضرورت کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے۔ضَرّ ذوالمعانی لفظ ہے اور ضروری ہونے پر دلالت کرتا ہے۔زمانہ جاہلیت میں عرب تین مہینوں کو اشہر حرم کے نام سے موسوم کرتے تھے ان میں لڑائی ، دنگہ فساد، لوٹ مار وغیرہ ممنوع سمجھتے تھے اور یہ مہینے امن وامان کے مہینے تھے۔البتہ عند الضرورت اپنی مرضی سے ان مہینوں کو آگے پیچھے کر لیتے جسے نسی کہتے تھے۔(دیکھئے التوبة : ۳۷) اسلام نے اسے باطل قرار دے کر ان مہینوں کی حرمت بحال کی۔سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، جماع ابواب وقت الحج والعمرة، باب بيان اشهر الحج) (المستدرك على الصحيحين كتاب المناسک، باب لا يحرم بالحج الا فى اشهر الحج، جزء اول صفحہ ۱۳۴۸)