صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 224
صحيح البخاری جلد۳ ۲۲۴ ٢٥-كتاب الحج خَرَجَتْ مَعَهُ فِي النَّفْرِ الْآخِرِ حَتَّى نکلی اور جا کر بیت اللہ کا طواف کیا۔کہتی تھیں: اس نَزَلَ الْمُحَصَّبَ وَنَزَلْنَا مَعَهُ فَدَعَا کے بعد پھر میں آپ کے ساتھ آخری کوچ میں بھی نکلی۔عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ اخْرُجْ جب آپ مقامِ محصب میں آئے اور ہم بھی آپ کے بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةِ ثُمَّ ساتھ اُترے تو آپ نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلایا افْرُغَا ثُمَّ انْتِيَا هَاهُنَا فَإِنِّي أَنْظُرُكُمَا اور کہا اپنی بہن کو حرم سے باہر لے جاؤ ( وہاں سے ) وہ عمرہ کا احرام باندھ لے۔پھر دونوں عمرہ سے فارغ حَتَّى تَأْتِيَانِي قَالَتْ فَخَرَجْنَا حَتَّى إِذَا ہو کر یہیں آجانا۔میں تم دونوں کے آنے تک انتظار فَرَغْتُ وَفَرَغْتُ مِنَ الطَّوَافِ ثُمَّ کروں گا۔کہتی تھیں کہ ہم نکلے۔جب میں طواف سے جِئْتُهُ بِسَحَرَ فَقَالَ هَلْ فَرَغْتُمْ فَقُلْتُ فارغ ہوئی اور وہ لے بھی فارغ ہوئے تو میں سحری کے نَعَمْ فَاذَنَ بِالرَّحِيْلِ فِي أَصْحَابِهِ وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی۔آپ نے فرمایا: فَارْتَحَلَ النَّاسُ فَمَرَّ مُتَوَجِهَا إِلَى کیا تم فارغ ہو چکے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔تب آپ الْمَدِينَةِ {قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَصِيرُ} نے اپنے صحابہ میں کوچ کا اعلان کیا۔لوگ چل پڑے۔آپ مدینہ کا رخ کئے ہوئے (ان کے پاس سے گزرے۔ضَيْرٍ مِنْ ضَارَ يَضِيْرُ ضَيْرًا وَيُقَالُ ضَارَ ابو عبد اللہ نے کہا ضَيْرٌ ) کا لفظ ) صَارَ يَضِيرُ يَضُوْرُ ضَوْرًا وَضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا۔ضيرًا سے ہے۔اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صَارَ يَضُورُ ضورا سے اور ضَرَّ يَضُرُّ ضَرًّا سے ہے۔اطرافه ٢٩٤، ٣٠٥، ۳۱٦، ۳۱۷، ۳۱۹، ۳۲۸، 1516، 1518، 1556، 1561، ،١٧٥، ١٧٦٢۷۸ ،۱۷۳۳ ،۱۷۲۰ ،۱۷۰۹ ،۱۶۵۰ ،١٥٦٢، ١٦٣٨ ،٢٩٨٤، ٤٣٩٥ ،۲۹۵۲ ،۱۷۸۸ ،۱۷۸۷ ،۱۷۸٦ ،۱۷۸۳ ،۱۷۷۲ ،۱۷۷۱ ۷۲۲۹ ،٥، ٥٥٤٨ ٥٥٥٩، ٦١٥۳۲۹ ،٤٤٠٨٠٤٤٠١ الْحَج اَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ : اس آیت کا مضمون واضح کرنے کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔تشریح: بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مقررہ مہینوں میں کسی وقت حج کیا جاسکتا ہے۔حالانکہ اس کے لیے ذوالحج مہینہ کی دسویں تاریخ مقرر ہے۔اس سے قبل یا بعد حج نہیں کیا جاسکتا۔امام بخاری نے روایت نمبر ۱۵۶۰ پیش کر کے آیت کا مفہوم واضح کیا ہے کہ ان مہینوں میں سے کسی ایک مہینہ میں حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔دور دراز کے ملکوں کو لو ظ ر کھتے ہوئے تین بعض نسخوں کے مطابق اس جگہ لفظ فرغ" ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۹۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔الفاظ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَضِيرُ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔(فتح الباری جز ۳۶ حاشیہ صفحہ ۵۲۹)