صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 9
صحيح البخاری جلد۳ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ وَقَالَ بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ٢٤ - كتاب الزكاة عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سے موسیٰ نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرْنِي روایت کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بِعَمَلِ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ مَا لَهُ مَا لَهُ کہا: مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں لے وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَبِّ مَا جائے۔لوگوں نے کہا: اسے کیا ہوا ہے؟ اسے کیا ہوا لَهُ تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيْمُ ہے؟ ( یعنی اس کے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت بڑی ضرورت ہے۔(تمہیں چاہیے کہ ) اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہراؤ اور نماز سنوار کر ادا کرو اور زکوۃ دو اور صلہ رحمی کرو اور بہتر ( بن اسد ) نے یوں أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي نقل کیا: شعبہ نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا:) محمد بن أَيُّوبَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عثمان اور ان کے باپ عثمان بن عبد اللہ نے ہم سے بِهَذَا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ أَخْشَى أَنْ بیان کیا کہ ان دونوں نے موسیٰ ابن طلحہ سے سنا۔موسیٰ يَكُوْنَ مُحَمَّدٌ غَيْرَ مَحْفُوطٍ إِنَّمَا هُوَ نے حضرت ابوایوب سے، حضرت ابوایوب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی روایت کی۔ابو عبداللہ ابْنُ عُثْمَانَ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الله عَمْرُو۔اطرافه: ۰۹۸۲، ۵۹۸۳ (امام بخاری ) نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ محمد (بن عثمان ) صحیح نام نہ ہو بلکہ عمرو بن عثمان ) ہو۔۱۳۹۷ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ :۱۳۹۷ محمد بن عبدالرحیم نے مجھ سے بیان کیا، (کہا: ) الرَّحِيْمِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عفان بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ وہیب نے وُهَيْبٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ ہمیں بتایا۔انہوں نے یحی بن سعید بن حیان سے، أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ کي نے ابوزرعہ سے۔ابوزرعہ نے حضرت ابو ہریرہ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نبی صلی اللہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایسے کام کا پتہ دیجئے