صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 222
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۲۲ ٢٥-كتاب الحج صلی اللہ علیہ وسلم سے جمرۃ العقبہ میں جبکہ آپ کنکریاں پھینک رہے تھے ؛ دریافت کیا اور کہا: أَلَكُمْ هَذِهِ خَاصَّةً يَا رَسُولَ اللهِ؟ یا رسول اللہ! یہ آپ کے لئے خاص طور پر ہے؟ تو آپ نے فرمایا: لَا بَلْ لِلْأَبَدِ۔یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ہمیشہ کے لئے ہے۔ہمارے لئے مخصوص نہیں۔بَاب ۳۳ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى الْحَج اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمت فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: حج کے مقررہ مہینے ہیں۔سو جو ان میں حج کی نیت پختہ کرلے تو پھر حج میں نہ شہوت کی بات ہو اور نہ احکام الہی کی نافرمانی اور نہ کوئی جھگڑا ط (البقرة: ۱۹۸) يَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) وہ تجھ سے قمری مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَج (البقرة: ۱۹۰) مہینوں سے متعلق پوچھتے ہیں۔کہو یہ لوگوں کے لئے وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اوقات کی تعیین کا ذریعہ ہیں اور حج ( کی تعیین ) کا أَشْهُرُ الْحَجَ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ بھی۔اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حج کے وَعَشْرٌ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ وَقَالَ ابْنُ مہینے شوال، ذوالقعدہ اور ذوالج کے دس دن ہیں۔اور عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ السُّنَّةِ أَنْ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: سنت تو یہ ہے لَا يُحْرِمَ بِالْحَقِّ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحَجَ۔کہ حج کا احرام حج کے مہینوں ہی میں باند ھے۔اور وَكَرِهَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ يُحْرِمَ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ناپسند کیا کہ خراسان یا مِنْ خُرَاسَانَ أَوْ كَرْمَانَ۔کرمان سے احرام باندھے۔١٥٦٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۱۵۶۰ محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا۔انہوں قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا نے کہا: ابوبکر حنفی نے مجھ سے بیان کیا، (کہا:) افلح أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ بن حمید نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے کہا: ) میں نے مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قاسم بن محمد کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ کرتے سنا۔وہ کہتی تھیں : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم