صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 221 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 221

صحيح البخاري - جلد۳ ۲۲۱ ٢٥ - كتاب الحج تشریح: مَنْ أَهَلَّ فِى زَمَنِ النَّبِيه كَإِهْلَالِ النبي عل الله : عنوان باب میں واقعہ مندرجہ روایت نمبر ۱۵۵۸ کو زمانہ نبوی کے ساتھ مقید کرنے سے ایک اختلافی مسئلہ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔اس واقعہ کی بناء پر امام شافعی نے فتوی دیا ہے کہ کسی دوسرے شخص کی نیت کے مطابق احرام باندھنا جائز ہے۔حج کی نیت ہو یا عمرہ کی۔جمہور کی رائے اس فتویٰ کے خلاف ہے۔ان کے نزدیک حج یا عمرہ کی عبادت میں بھی نیت ہر شخص کی معین اور واضح ہونی چاہیے۔حضرت علی کا واقعہ ایسے وقت سے تعلق رکھتا ہے جبکہ احکام کی وضاحت نہیں ہوئی تھی۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی۔مگر اب جبکہ احکام کی تشریح ہو چکی ہے تو کسی مہم نیت کے ساتھ عبادت حج یا عمرہ بجالانا جائز نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۸۵) (فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۵۲۵) قرآن مجید کا ارشاد وَأَتِمُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِہ اس بارے میں واضح ہے۔یعنی اس آیت میں حج اور عمرہ دو معین عبادتیں پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۵۵۹ کے آخر میں حضرت عمر کا محولہ استدلال بھی یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت نے آیت کی تشریح کر دی ہے کہ حج کے لئے قربانی کا ہونا ضروری ہے۔حضرت علی کے ساتھ قربانی تھی۔( نمبر ۷ ۱۶۵۱،۱۵۵) انہیں احرام کھولنے کی اجازت نہیں دی حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ) یہاں تک کہ منی میں قربانی ذبح نہ کر لی جائے اور حضرت ابو موسیٰ اشعری کے ساتھ قربانی نہ تھی۔اس لئے انہیں صرف عمرہ پورا کرنے کا ارشاد ہوا۔دونوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت کے ساتھ احرام باندھا تھا۔آپ نے حج اور عمرہ دونوں کی نیت کی تھی۔ایک کا صرف عمرہ ہوا اور دوسرے کا عمرہ اور حج دونوں ہوئے۔حضرت علی یا حضرت ابو موسیٰ اشعری کا نیت کرنا ایسی حالت میں تھا جبکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ احکام حج کی کیا صورت ہے اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا احرام باندھا ہے۔لیکن توضیح و تشریح احکام کے بعد نیت مبہم رکھنے کا کوئی محل نہیں۔روایت نمبر ۱۵۵۹ کے آخر میں حضرت عمر کے جس استدلال کا ذکر ہے وہ در حقیقت قرآن سے متعلق ہے۔(مزید تشریح کے لئے دیکھئے باب ۳۴ ۳۶۹۔روایت نمبر ۱۵۵۹ سے ظاہر ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری مناسک حج کی تفصیلا۔سے ناواقف تھے۔زمانہ جاہلیت میں عرب حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے۔( روایت نمبر ۱۵۶۴) قرآن مجید کے مذکورہ بالا حکم کی تشریح کے بعد ان عبادتوں کے متعلق مہم نیت کرنا مناسب نہیں؛ یہ جمہور کی دلیل ہے۔عنوانِ باب کا حوالہ قَالَهُ ابنُ عُمَرَ اور پہلی روایت کے آخر میں ابن جریج اور حضرت سراقہ کی روایت کا حوالہ نیز دوسری روایت کا انتخاب۔یہ تین ایسے قرینے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام موصوف جمہور کے مذہب کی تائید میں ہیں۔حضرت ابن عمرؓ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غایت درجہ اتباع میں مشہور ہیں۔کتاب المغازی میں ان کی روایت بکر بن عبد اللہ مزنی سے منقول ہے۔لیکن اس واقعہ کا علم رکھنے کے باوجود ان کے متعلق یہ کہیں مذکور نہیں کہ انہوں نے کبھی اس کے خلاف عمل کیا ہو۔وَذَكَرَ قَوْلَ سُرَاقَةَ: یعنی حضرت جابر نے حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم کی بات کا ذکر کیا۔ان کی روایت کتاب العمرة باب ۶ روایت نمبر ۱۷۸۵ میں مفصل مروی ہے۔اس میں ذکر ہے کہ حضرت سراقہ نے آنحضرت