صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 220
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۲۰ ٢٥ - كتاب الحج ١٥٥٩ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۱۵۵۹ محمد بن یوسف (فریابی ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ ( کہا:) سفیان (ثوری ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قیس طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَى بن مسلم سے قیس نے طارق بن شہاب سے، طارق نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمٍ بِالْيَمَنِ کہ انہوں نے کہا: نبی علی نے مجھے ۔ نے مجھے میری لے قوم کی فَجِئْتُ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ فَقَالَ بِمَا صلى الله طرف یمن کی طرف بھیجا۔ میں واپس آیا اور اس وقت صلى الله عليه آپ بطحاء میں تھے۔ آنحضرت علی نے فرمایا: تم أَهْلَلْتَ قُلْتُ أَهْلَلْتُ كَاهْلَالِ النَّبِيِّ نے کس کا احرام باندھا ہے؟ تو میں نے کہا: نے کہا: میں نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ مَعَكَ فِي ﷺ کے احرام صلى الله عروسه احرام کی طرح ہی احرام باندھا ہے۔ مِنْ هَدْيِ قُلْتُ لَا فَأَمَرَنِي أَنْ أَطُوْفَ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے ساتھ قربانی ہے؟ میں بِالْبَيْتِ} فَطَفْتُ بِالْبَيْتِ وَ بِالصَّفَا نے کہا نہیں تو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ میں بیت اللہ وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ أَمَرَنِي فَأَحْلَلْتُ فَأَتَيْتُ کا طواف کرلوں سے چنانچہ میں نے بیت اللہ اور صفا امْرَأَةً مِنْ قَوْمِي فَمَشَطَتْنِي أَوْ غَسَلَتْ و مروہ کا طواف کیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا (کہ رَأْسِي فَقَدِمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ میں احرام کھول دوں ۔ ) میں اپنی قوم کی ایک عورت کے إِنْ تَأْخُذْ بِكِتَابِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُنَا پاس آیا تو اس نے مجھے لکھی کی ۔ یا کہا: میرا اس دھویا۔ بِالسَّمَامِ قَالَ اللهُ: وَأَتِمُّوا الْحَجَّ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے (یعنی خلیفہ ہوئے) تو انہوں نے کہا: اگر ہم اللہ کی کتاب پر عمل کریں تو وہ وَالْعُمْرَةَ { لِلَّهِ } (البقرة: ۱۹۷) وَإِنْ یہی حکم دیتی ہے کہ حج اور عمرہ کو پورا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نَّأْخُذْ بِسُنَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ فرماتا ہے: حج اور عمرہ اللہ کے لئے سے پورے طور پر ادا وَسَلَّمَ فَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ حَتَّى نَحَرَ الْهَدْي۔ کرو۔ اگر ہم نبی ﷺ کی سنت پر عمل کریں: صلى الله عروسة ریں تو آپ نے بھی جب تک قربانی نہ کر لی ؛ احرام نہیں کھولا ۔ اطرافه: 15٦٥، 1714، 1795، 4346، 4397۔ لفظ قوم کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”قومی“ ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۵۲۵ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ الفاظ أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ» فتح البارى مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۵۲۵ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ لفظ ”اللہ ، مطبوعہ بولاق کے متن کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۵۲۵ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔