صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 219
صحيح البخاري - جلد ٣ ۲۱۹ ٢٥-كتاب الحج عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ عَطَاءٌ قَالَ جَابِرٌ ابن جریج سے مروی ہے کہ عطاء بن ابی رباح) نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: وہ يُقِيْمَ عَلَى إِحْرَامِهِ وَذَكَرَ قَوْلَ سُرَاقَةَ اپنے احرام پر قائم رہیں۔نیز حضرت جابر نے حضرت سراقہ بن مالک) کی بات کا ذکر کیا۔اطرافه ١٥٦٨، ۱۳۷۰، ۱٦٥۱، ۱۷۸۵، ۲۰۰۶، ۱۳۵۲، ۷۲۳۰، ٧٣٦٧۔١٥٥٨: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيّ :۱۵۵۸: حسن بن علی خلال ہذلی نے ہم سے بیان الْخَلَّالُ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ کیا ، ) کہا : ) عبدالصمد ( بن عبد الوارث ) نے ہم حَدَّثَنَا سَلِيْمُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ سَمِعْتُ سے بیان کیا ، ( کہا: ) سلیم بن حیان نے ہمیں بتایا۔مَرْوَانَ الْأَصْفَرَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ انہوں نے کہا: میں نے مروان اصفر سے سنا کہ حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں عَنْهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس مِنَ الْيَمَن فَقَالَ بِمَا أَهْلَلْتَ قَالَ بِمَا یمن سے آئے تو آنحضرت ﷺ نے ان سے أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پوچھا: تم نے کس کا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا: اسی کا جس کا نبی ﷺ نے۔آپ نے فرمایا: اگر فَقَالَ لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ۔میرے ساتھ قربانی نہ ہوتی تو میں احرام کھول دیتا۔وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنِ ابْنِ { اور محمد بن بکر نے ابن جریج سے یوں روایت کیا جُرَيْجٍ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ که نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا: وَسَلَّمَ بِمَا أَهْلَلْتَ يَا عَلِيُّ قَالَ بِمَا عَلی !تم نے کیا احرام باندھا؟ انہوں نے کہا: میں نے أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یہ پکارا کہ جو احرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔آپ نے فرمایا: تو قربانی دے اور احرام میں رہ؛ جیسے قَالَ فَأَهْدِ وَامْكُتْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ۔}۔آب ہے۔} یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ سلفیہ کے مطابق حدیث نمبر ۱۵۵۸ کے ساتھ ہے۔جبکہ مطبوعہ انصاریہ کے مطابق حدیث نمبر۱۵۵۷ کے ساتھ ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۵۲۴)