صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 218
صحيح البخاری جلد۳ تشریح ۲۱۸ ٢٥ - كتاب الحج كَيْفَ تُهِلُ الْحَائِضُ وَالتَّفَسَاءُ: حضرت عائشہ کے حج کا واقعہ مع تشریح باب ۳ میں گزر چکا ہے اور یہ روایت باب نمبر ۳۳ ( روایت نمبر ۱۵۶۰) میں بھی آئے گی۔یہاں صرف حائضہ اور نفاس والی کے احرام باندھنے کا مسئلہ زیر بحث ہے جس کے لئے مذکورہ بالا واقعہ سے استدلال کیا گیا ہے۔عمرہ میں صرف طواف بیت اللہ اور سعی صفا و مروہ ہے۔جس کے بعد سر کے بال منڈوا کر احرام کھول دیا جاتا ہے۔عرفات ومنی میں جانے کی ضرورت نہیں اور نہ قربانی کی۔جیسا کہ روایت نمبر ۱۵۵۶ کے الفاظ فَطَاقَ الَّذِينَ كَانُوا أَهَلَّوْا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ حَلَّوْا سے واضح ہے۔اس تعلق میں روایت نمبر ۱۵۵۹ بھی دیکھی جائے۔حیض یا نفاس کا خون آنے پر عورت اگر محرمہ ہو تو احرام کھول لے اور اگر حج شروع ہونے سے قبل حیض بند ہو جائے تو وہ حج کا احرام باندھ لے۔جیسا کہ حضرت عائشہ نے کیا۔متعدد روایات پر یکجا نظر ڈالنے سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ نے عمرہ کی نیت کی تھی۔اس روایت میں بھی ہے: فَأَهْلَلْنَا بِعُمُرة۔یعنی ہم نے عمرہ کے لئے لبیک پکارا۔جن لوگوں کے ساتھ قربانی تھی۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر حج وعمرہ کی نیت کر لی اور جن کے پاس قربانی نہ تھی؛ انہوں نے صرف عمرہ کی نیت کی۔فَكُنتُ مِمَّنْ تَمَتَّعَ وَلَمْ يَسُقِ الْهَدْي (كتاب الحیض باب ۱۵ روایت نمبر ۳۱۶) اس کی تائید روایت نمبر ۳۱۷ سے بھی ہوتی ہے۔جس میں یہ الفاظ ہیں : فَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ وَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِحَجْ وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمُرةٍ۔جن روایات میں یہ الفاظ ہیں: خَرَجْنَا لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ ( روایت نمبر ۲۹۴) یا مُهِلِينَ بِالْحَجِ (نمبر ۱۷۸۸) يا لَبَّيْنَا بِالْحَجِ ( باب نمبر ۸۲) تو اس کے صرف یہ معنے ہیں کہ مدینہ سے سفر کرتے وقت صحابہ کا خیال تھا کہ وہ حج کے لئے جارہے ہیں۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان پر جن کے پاس قربانی نہیں تھی ، انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور حیض کی حالت دیکھ کر حضرت عائشہ کو صدمہ ہوا کہ اُن کا عمرہ بھی ضائع ہوا۔اس وقت حج ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے احرام کھولنے کے لئے فرمایا اور دو تین دن ہی میں خون حیض بند ہو گیا تو حضرت عائشہ نے احرام حج باندھا اور حج سے فارغ ہونے پر عمرہ کیا۔عنوانِ باب میں لفظ اھلان کا لغوی معنی بتانا اتنا مقصود نہیں جتنا یہ امر کہ حیض یا نفاس والی عورت اس طرح کرے جس طرح حضرت عائشہ نے کیا تھا۔یہی خلاصہ باب ہے۔اس واقعہ کی نسبت پہلے رائے کا اظہار ہو چکا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب الحیض تشریح روایت نمبر ۳۱۶،۲۹۴، ۳۱۷) بَاب ۳۲ : مَنْ أَهَلَّ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ لا كَإِهْلَالِ النَّبِي۔جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح احرام باندھا قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہمانے نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔سے نقل کیا ہے۔١٥٥٧ : حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۱۵۵: مکی بن ابراہیم نے ہمیں بتایا، (کہا:)