صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 215
صحيح البخاری جلد۳ ۲۱۵ ٢٥-كتاب الحج الْحُلَيْفَةِ فَيُصَلِّي ثُمَّ يَرْكَبُ وَإِذَا مسجد میں آتے اور نماز پڑھتے۔پھر سوار ہوتے اور اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً أَحْرَمَ ثُمَّ قَالَ جب اُن کی اونٹنی اُن کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ احرام باندھتے۔پھر کہتے : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔وَسَلَّمَ يَفْعَلُ۔اطرافه ١٥٥٣، ١٥٧٣، ١٥٧٤ اَلْإِهْلَالُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ : قبلہ رخ ہو کر لبیک کہنا؟ اسی طرح آداب حج میں سے ہے جس طرح تشریح: نماز کے لئے۔اس بارے میں سب آئمہ متفق ہیں۔تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ : یعنی اسماعیل بن علیہ نے عبدالوارث کی طرح یہ روایت نقل کی ہے۔ان کی روایت باب نمبر ۳۸ ( روایت نمبر ۱۵۷۳) میں دیکھئے۔اس میں حضرت عبداللہ بن عمر کے ذی طواء میں رات بسر کرنے اور نہانے کا ذکر ہے۔جس کی وجہ سے باب کا الگ عنوان قائم کیا گیا ہے۔ابو معمر کی یہ روایت بطور تعلیق (حوالہ ) نقل کی گئی ہے۔دراصل باب ۲۷ سے تعلق ہی میں یہ باب اور باب ۳۰ قائم کئے گئے ہیں۔جن سے مواقیت تلبیہ بتانے مقصود ہیں اور وہ فرق بھی جو اھلال اور تلبیہ میں ہے۔بَاب ۳٠: التَّلْبِيَةُ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِيْ جب وادی میں اُترے تو لبیک کہنا ١٥٥٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى :۱۵۵۵: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ابن ابی عدی قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عَدِي عَنِ ابْنِ نے مجھے بتایا کہ (عبداللہ بن عون سے مروی ہے۔عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ ابنِ انہوں نے مجاہد سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَذَكَرُوا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھے۔لوگوں نے دجال کا ذکر کیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: اس کی الدَّجَّالَ أَنَّهُ قَالَ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا۔(مجاہد كَافِرٌ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ لَمْ أَسْمَعْهُ کہتے تھے : ) حضرت ابن عباس نے کہا: میں نے یہ نہیں وَلَكِنَّهُ قَالَ أَمَّا مُوْسَى كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ تا البتہ آپ نے یہ فرمایا تھا: موسیٰ " جب وادی میں اُترے تو وہ لبیک کہہ رہے تھے۔گویا اب بھی میں ان کو إِذِ انْحَدَرَ فِي الْوَادِيْ يُلَبَيْ۔اطرافه: ۳۳۵۵، ۰۹۱۳ اُترتے دیکھ رہا ہوں۔