صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 214 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 214

صحيح البخاری جلد۳ ۲۱۱ بَابِ ۲۹ : الْإِهْلَالُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ قبلہ کی طرف منہ کر کے لبیک کہنا ٢٥-كتاب الحج ١٥٥٣ : ١٥ : قَالَ أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۱۵۵۳: (اور ) ابو معمر نے کہا: ہم سے عبدالوارث الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعِ قَالَ نے بیان کیا، کہا: ) ایوب (سختیانی) نے ہمیں كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا بتایا۔نافع سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت صَلَّى بِالْغَدَاةِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ أَمَرَ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ذوالحلیفہ میں صبح کی نماز بِرَاحِلَتِهِ فَرُحِلَتْ ثُمَّ رَكِبَ فَإِذَا پڑھتے تو وہ اپنی اونٹنی کو تیار کرنے کا حکم دیتے۔چنانچہ اسْتَوَتْ بِهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ قَائِمًا ثُمَّ اس پر پالان رکھا جاتا۔پھر وہ سوار ہوتے اور جب اونٹنی اُن کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی تو وہ قبلہ کی طرف منہ کرتے۔پھر لبیک کہتے۔یہاں تک کہ حرم * میں پہنچ جاتے۔پھر رک جاتے۔یہاں تک کہ جب ذی طواء میں آتے ؛ رات کو ٹھہرتے یہاں اغْتَسَلَ وَزَعَمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ تک کہ صبح ہو جاتی۔جب صبح کی نماز پڑھ چکتے تو آپ فَعَلَ ذَلِكَ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيْلُ عَنْ أَيُّوبَ نہاتے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فِي الْغَسْل۔بھی ایسا ہی کیا۔عبدالوارث کی طرح اسماعیل نے بھی ایوب سے نہانے سے متعلق یہی روایت نقل کی ہے۔اطرافه ١٥٥٤، ١٥٧٣، ١٥٧٤- يُلَتِي حَتَّى يَبْلُغَ الْمَحْرَمَ ثُمَّ يُمْسِكُ حَتَّى إِذَا جَاءَ ذَا طُوًى بَاتَ بِهِ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ ١٥٥٤ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ :۱۵۵۴: سلیمان بن داؤد ابوربیع نے ہم سے بیان أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کیا، کہا: ) فلیح ( بن سلیمان ) نے ہمیں بنایا کہ نافع كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا سے مروی ہے۔وہ کہتے تھے: (حضرت عبداللہ ) بن عمر أَرَادَ الْخُرُوجَ إِلَى مَكَّةَ ادَّهَنَ بِدُهْنِ رضى الله عنهما جب ملکے کو جانا چاہتے تو وہ بالوں کو تیل لَيْسَ لَهُ رَائِحَةٌ طَيِّبَةٌ ثُمَّ يَأْتِي مَسْجِدَ لگاتے ، جس میں معمولی خوشبو ہوتی۔پھر ذوالحلیفہ کی حمد لفظ المَحرَم کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ "الحَرَم ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۵۲۰)