صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 213
صحيح البخاري - جلد ۳ ۳۱۳ ٢٥ - كتاب الحج امام بخاری کے طریق استدلال کے پیش نظر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرف ضمناً اشارہ کر رہے ہیں کہ کلمات تحمید و تسبیح و تکبیر کی نسبت یہ خیال کہ وہ تلبیہ کا قائم مقام ہو سکتے ہیں غیر معروف ہے۔ امام ابو حنیفہ سے اس بارے میں دو آراء مروی ہیں۔ ایک وہ رائے جو جمہور کی رائے کے قریب ہے اور ایک یہ رائے کہ کلمات تحمیدی تلبیہ کے قائم مقام ہو سکتے ہیں اور یہ رائے غیر معروف ہے۔ بَاب ۲۸ : مَنْ أَهَلَّ حِيْنَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً جس نے اس وقت لبیک کہا جب سواری اس کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی ہو ١٥٥٢ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ۱۵۵۲: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ ابن جریج نے ہمیں بتایا، کہا: صالح بن کیسان نے كَيْسَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ مجھے بتایا۔ انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی ۔ قَائِمَةً۔ اطرافه 16٦ ، 1514 ، 1609، 1865، 5851۔ تشريح : مَنْ أَهَلَّ حِيْنَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً: باب مبرہ میں حضر عبداللہ بن مراور حضرت جابر بن عبداللہ کی دو الگ الگ روایتیں گزر چکی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لبیک اس وقت پکارتے جب اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی۔ روایت نمبر ۱۵۵۲ بھی حضرت عبداللہ بن عمر ہی کی ہے جو ابن جریج سے مروی ہے۔ جنہوں نے صالح بن کیسان سے سنا اور صالح نے نافع سے بعض روایتوں میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے نافع سے سنی لیکن اس میں سماعت براہ راست نہیں۔ بلکہ بالواسطہ ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ ابن جریج روایتیں نقل کرنے میں محتاط ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۲۰ ) صالح بن کیسان ، عمر بن عبدالعزیز کی اولاد کے اتالیق تھے۔ (عمدة القاری جزء ۹ صفحه ۱۷۸) سابقہ باب میں امام بخاری نے جس فرق کی طرف توجہ دلائی ہے، اسے زیادہ مضبوط ثابت کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں دیکھئے تشریح باب ۲۰۔ تلبیہ نشیب و فراز میں اتر تے چڑھتے وقت ، سمند ر و ہواؤں کے تلاطم و ہیجان اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت ، سواری پر بیٹھتے یا اُس سے اُترتے وقت بلند آواز سے کیا جاتا تھا۔ اسی طرح بیدار ہو جانے پر یا بوقت ملاقات احباب بھی۔