صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 213 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 213

صحيح البخاری جلد۳ ۱۳ ٢٥ - كتاب الحج امام بخاری کے طریق استدلال کے پیش نظر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرف ضمناً اشارہ کر رہے ہیں کہ کلمات تحمید و تسبیح و تکبیر کی نسبت یہ خیال کہ وہ تلبیہ کا قائم مقام ہو سکتے ہیں غیر معروف ہے۔امام ابوحنیفہ سے اس بارے میں دو اراء مروی ہیں۔ایک وہ رائے جو جمہور کی رائے کے قریب ہے اور ایک یہ رائے کہ کلمات تحمیدی تلبیہ کے قائم مقام ہو سکتے ہیں اور یہ رائے غیر معروف ہے۔بَاب ۲۸ : مَنْ أَهَلَّ حِيْنَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً جس نے اس وقت لبیک کہا جب سواری اس کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی ہو ١٥٥٢: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا :۱۵۵۲: ابو عاصم نے ہم سے بیان کیا ، (کہا :) ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ ابن جریج نے ہمیں بتایا، کہا: صالح بن کیسان نے كَيْسَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ مجھے بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے حضرت اللهُ عَنْهُمَا قَالَ أَهَلَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے : نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت لبیک پکارا جب آپ قَائِمَةً۔کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوگئی۔اطرافه: ١٦٦، ۱٥١٤، ١٦۰۹، ٢٨٦٥، ٥٨٥١ تشریح: مَنْ أَهَلَّ حِيْنَ اسْتَوَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً: باب نمبر۲ میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت جابر بن عبد اللہ کی دو الگ الگ روایتیں گزر چکی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لبیک اس وقت پکارتے جب اونٹی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو جاتی۔روایت نمبر ۱۵۵۲ بھی حضرت عبد اللہ بن عمر ہی کی ہے جو ابن جریج سے مروی ہے۔جنہوں نے صالح بن کیسان سے سنا اور صالح نے نافع سے بعض روایتوں میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے نافع سے سنی لیکن اس میں سماعت بر او راست نہیں۔بلکہ بالواسطہ ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ ابن جریج روایتیں نقل کرنے میں سے محتاط ہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۵۲۰) صالح بن کیسان عمربن عبدالعزیز کی اولاد کے اتالیق تھے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۱۷۸) سابقہ باب میں امام بخاری نے جس فرق کی طرف توجہ دلائی ہے، اسے زیادہ مضبوط ثابت کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔اس ضمن میں دیکھئے تشریح باب ۲۰۔تلبیہ نشیب و فراز میں اتر تے چڑھتے وقت ،سمندرو ہواؤں کے تلاطم و ہیجان اور طلوع و غروب آفتاب کے وقت ، سواری پر بیٹھتے یا اُس سے اُترتے وقت بلند آواز سے کیا جاتا تھا۔اسی طرح بیدار ہو جانے پر یا بوقت ملاقات احباب بھی۔