صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 212 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 212

صحيح البخاری جلد ۳ ۴۱۴ ٢٥ - كتاب الحج أَيُّوبَ عَنْ رَّجُلٍ عَنْ أَنَسٍ۔ کی۔ ایوب سے مروی ہے کہ انہوں نے کسی شخص سے اور اُس شخص نے حضرت انس سے روایت کی ۔ اطرافه : 10۸۹ ، 1546 ، 1547، ١٥٤٨، ١٧١٢، ۱۷۱٤، ۱۷۱۵، ٢٩٥١، ٢٩٨٦۔ تشريح : التَّحْمِيدُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ قَبْلَ الْإِهْلَالِ: احرام کی بابت ائمہ کا تفاق ہے کہ اس میں حج کی نیت کرنا ضروری ہے۔ لیکن تلبیہ میں ان کا اختلاف ہے۔ امام مالک اور امام شافعی احرام باندھتے وقت تلبیہ ضروری نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک صرف نیت کافی ہے۔ مگر امام ابو حنیفہ کے نزدیک چونکہ تلبیہ مرح تکبیر تحریمہ کے بالمقابل ہے۔ اس لئے نیت و تلبیہ دونوں ضروری ہیں۔ جمہور نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں تلبیه مستحب قرار دیا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ صرف انہی الفاظ میں محدود کیا جائے۔ تلبیہ کے الفاظ میں تبدیلی یا زیادتی کی جا سکتی ہے۔ بشرطیکہ اصل مفہوم قائم رہے۔ یعنی سبیح و تحمید و ار ہے۔ یعنی تسبیح وتحمید و تکبیر کے الفاظ بھی اللھم لبیک کے قائم مقام ہو سکتے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۱۹) (بداية المجتهد، كتاب الحج، باب القول في الإحرام) امام بخاری نے تحمید و تسبیح و تکبیر اور تلبیہ کے درمیان ایک فرق نمایاں کیا ہے جو اکثر فقہاء و ائمہ کی نظر سے اوجھل رہا ہے اور وہ یہ کہ تحمید وتسبیح و تکبیر کے الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اللہ علیہ وسلم نے سوار ہونے کے وقت دہرائے اور اس کے بعد جب سکتیں۔ کی اونٹنی کھڑی ہوگئی اور چلنے لگی تو آپ نے تلبیہ حج پکارا۔ دونوں باتیں الگ الگ ہیں۔ ایک دوسرے کی قائم مقام نہیں ہو سکے علامہ عینی کے نزدیک امام ابو حنیفہ کا مذہب اس بارہ میں وار ں واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ تلبیہ میں کمی نہ جائے اور اگر ان کے علاوہ ہم معنی الفاظ بڑھائے جائیں تو یہ نا جائز نہیں۔ بلکہ مستحب ہے۔ جس طرح چاہے کوئی اپنی عبودیت و محبت کا اظہار کرے۔ چنانچہ حضرت ابن عمر الفاظ تلبیہ کے علاوہ یہ الفاظ بھی کہتے : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ ۔ (مسلم، كتاب الحج، باب التلبية وصفتها ووقتها) ان الفاظ میں حضرت عمر تلبیہ کیا کرتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے انہی کی اقتداء کی تھی ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۵۱۶) تلبیہ کے الفاظ جو امام مالک سے مروی ہیں؛ وہ زیادہ صحیح اور مستند ہیں۔ (دیکھئے روایت نمبر ۱۵۴۹) قَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ رَّجُلٍ : یہ غیر معروف راوی کون ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد اسماعیل بن علیہ ہیں جو درست نہیں۔ کیونکہ باب نمبر ۱۱۹ روایت نمبر ۱۷۱۵ میں مسدد سے بسند اسماعیل بن علیہ کی روایت بغیر اس زیادتی کے مروی ہے۔ عَنْ رَجُلٍ کی نسبت امام ابن حجر کا خیال ہے کہ یہ ابو قلا بہ ہی ہیں جن کے متعلق مذکورہ بالا سند نمبر ۱۵۵۱ میں تصریح ہے جو وہیب سے مروی ہے۔ وہیب راویوں میں ثقہ اور حجت مانے گئے ہیں۔ ھذا سے آخری حصہ روایت مراد ہے۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں دو چتکبرے مینڈھے ذبح کئے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۱۹)