صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 210 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 210

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۱۰ ٢٥ - كتاب الحج تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ (سفیان ثورى) کی طرح ابو معاویہ نے یہ بات (سلیمان وَقَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ سَمِعْتُ بن مہران اعمش سے روایت کی اور شعبہ نے کہا: سلیمان خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ (امش) نے ہمیں بتایا۔( کہتے تھے: ) میں نے خیثمہ سے سنا۔وہ ابو عطیہ سے روایت کرتے تھے۔(ابو عطیہ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا۔نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔تشریح: التلبية: تلبيه مصدر ہے نبی کا۔لَبَّ بِالْمَكَانِ کے معنی ہیں: أَقَامَ بِهِ وَلَزِمَهُ کسی جگہ دائی طور پر رہ پڑتا اور اس سے جدا نہ ہونا۔ٹھیک کے معنی ہوں گے : تیرے حضور آب حاضر ہو گیا ہوں۔حرف ك“ اس میں ایسا ہی ہے جیسا لَدَيْكَ، عَلَيْكَ اِلَيْكَ، جَنَانَيْكَ میں ہے۔کب کے مفہوم میں توجہ یا رُخ کرنا بھی ہے۔کہتے ہیں: دَارُ فلان تَلْبُ دَارِی فلاں کے گھر کا رخ میرے گھر کی طرف ہے۔لبیک کے معنے ہیں: أَنَا مُوَاجِهكَ۔میرا رُخ تیری طرف ہے۔کب میں محبت و اخلاص کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔امْرَأَةٌ لَبَةٌ: وہ عورت جو اپنے خاوند کی محبت و تخلص ہو اور اُس سے جدا نہ ہو۔حَسَبُ لَبَابٌ کے معنی ہیں خالص حسب۔اس مفہوم کے مطابق لبیک کے معانی ہیں: مَحَبَّتِی لَكَ وَإِخلاصی غرض لبیک اپنے معنی کے لحاظ سے عاشقانہ انداز اور وارفتگی کا فقرہ ہے۔(لسان العرب تحت لبب) اور مسلمان کا حج دو کفنیاں پہن کر اس ترانه عشق سے شروع ہوتا ہے: لَبَّیک اَللَّهُمَّ لَيْكَ، لبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْکَ۔میں تیری جناب میں محبت و اخلاص سے حاضر ہوا ہوں۔میرے ان جذبات محبت میں تیرا کوئی شریک نہیں۔اسلام کی عبادتیں دو قسم کی ہیں۔ایک عبادت وہ جو کامل اطاعت پر مبنی ہے۔جس سے خدا اور بندے کے درمیان آقا اور غلام کے سے تعلقات قائم رکھنا مقصود ہے۔غلام اپنی نقل و حرکت میں اپنے مالک کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔اس کا صرف یہ کام ہے کہ جو مالک چاہیے، اُسے بجالائے۔نماز میں ایک مسلمان ایاک نَعْبُدُ کے اقرار سے اپنی اسی عبودیت کا عہد کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم بجالائے گا اور خواہش نفس سے کچھ نہیں کرے گا۔یہ اسلامی عبادت تکبیر تحریمہ سے شروع ہوتی ہے۔جس سے ہر بات سوا عبادت کے حرام ہو جاتی ہے اور کبریائی ذات باری تعالیٰ کے سامنے نفس کی انانیت کا خاتمہ ہوتا ہے۔مسلمان تکبیر تحریمہ کے ساتھ اپنے لئے وہ تمام باتیں حرام کر لیتا ہے جو آداب کبریائی اور عبودیت کے خلاف ہیں۔دوسری قسم کی عبادت میں عاشقانہ انداز ہے اور وہ یہ حج ہے جو تلبیہ سے شروع ہوتا ہے۔یہ عبادت بجائے تکبیر تحریمہ کے اهلال و تلبیہ کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔جو جذبہ محبت دمشق شیفتگی اور وارفتگی کا کامل مفہوم اور مظاہرہ اپنے ساتھ رکھتی ہے۔اس میں ایک مسلم دنیوی عیش وعشرت سے دستکش ہو کر ایک کفنی پہنتا اور ننگے سر اپنے محبوب از لی کی طرف دیوانہ وار لپکتا اور کہتا جاتا ہے: لبیک اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لک لبیک۔نماز کی عبادت میں خادم ومخدوم کے آداب ہیں اور حج کی عبادت عاشق و معشوق کا کامل نمونہ ہے۔