صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 209
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۰۹ ٢٥-كتاب الحج امام بخاری نے باب کا عنوان اهلال احرام باندھنے پر آواز بلند کرنے ) سے قائم کیا ہے اور اس کے مطا بعد تلبیہ کا باب الگ قائم کیا ہے۔جس سے دونوں میں فرق دکھانا مقصود ہے کہ اصلال کا تعلق میقات سے ہے اور تلبیہ عام ہے۔باب کا عنوان مصدر یہ رکھ کر اسے مقید نہیں کیا۔حالات پر یہ امر چھوڑا ہے۔امام مالک کی بھی یہی رائے ہے کہ ہر مقام پر آواز بلند کرنا ضروری نہیں۔بَاب ٢٦ : التَّلْبِيَةُ لبیک کہنا ١٥٤٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۱۵۴۹ عبدالله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَّافِعِ عَنْ ) کہا :) مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لبیک یہ تھا: لَبَّيْكَ اللَّهُم لَبَّيْكَ، لَبَّيْکَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ تَلْبِيَةَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ یعنی میں حاضر ہوں۔اے میرے اللہ میں حاضر لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ۔ہوں۔میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔میں حاضر ہوں۔ہر خوبی اور ہر ایک نعمت تیری ہی ہے اور بادشاہی بھی تیری ہی ہے۔تیرا کوئی شریک نہیں۔اطرافه: ١٥٤٠، ۵۹۱٤، ۰۹۱۵ ١٥٥٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۱۵۵۰: محمد بن يوسف (فریابی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ کیا ، (کہا) سفیان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ اعمش سے اعمش نے عمارہ سے، عمارہ نے ابوعطیہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ سے، ابو عطیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَتِي روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : میں خوب جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح لبیک کہا کرتے تھے۔لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ ( يعنی لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ۔لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ -