صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 208
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۰۸ ٢٥ - كتاب الحج باب ٢٥ : رَفْعُ الصَّوْتِ بِالْإِهْلَالِ لبیک کہنے میں آواز بلند کرنا ١٥٤٨: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ ۱۵۴۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔ حَرْبِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب (سختیانی) أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ سے، ایوب نے ابو قلابہ سے، ابو قلابہ نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا انہوں نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ رَکھتیں اور میں نے سناء سنا ہے کہ وہ حج اور عمرہ دونوں کا وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُ خُوْنَ بِهِمَا جَمِيعًا ۔ اکٹھا ہی نام لے کر بلند آواز سے لبیک پکارتے تھے۔ اطرافه : ۱۰۸۹ ، ١٥٤٦، 15٤٧ ، 1551، ۱۷۱۲، ۱۷۱۴، ۱۷۱۵، ٢٩٥١، ٢٩٨٦۔ تشريح : رَفْعُ الصَّوْتِ بِالْإِهْلَالِ : بعض فقہاء نے بلند آواز سے لبیک پکارنا ضروری قرار دیا ہے۔ گوجمہور کام کے نزدیک یہ مستحب ہے نہ واجب۔ امام مالک نے جامع مسجد میں بلند آواز سے لبیک پکارنا ممنوع قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک مسجد احرام، مسجد منی اور دوسرے میقات حج میں بلند آواز سے تلبیہ ضروری ہے لیے انہوں نے اس بارے میں ایک حدیث نبوی سے استدلال کیا ہے جسے ابو داؤد، ابن ماجہ، ترندی، اور حاکم وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمُ بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَّةِ یعنی جبریل میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے ساتھیوں کو حکم دوں کہ وہ اپنی آواز میں احرام باندھتے وقت اور تلبیہ میں بلند کیا کریں اور ابن ابی شیبہ نے بھی اس کی تائید میں نقل کیا ہے: كَانَ اَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ عَلَ يَرْفَعُونَ أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَّةِ حَتَّى تَبِعَ أَصْوَاتُهُمْ کے یعنی صحابہ کرام اپنی آواز تلبیہ میں اتنی بلند کرتے کہ آوازیں بیٹھ جاتیں۔ جمہور نے بلندی پر چڑھتے اور ساتھیوں سے ملتے وقت تلبیہ بآواز بلند مستحب قرار دیا ہے۔ تفصیل کیلئے دیکھئے بداية المجتهد، کتاب الحج، القول في الإحرام) مؤطا امام مالک، کتاب الحج، باب رفع الصوت بالإهلال) (ترمذی، کتاب الحج، باب ماجاء في رفع الصوت بالتلبية) (ابوداؤد، كتاب المناسک، باب كيف التلبية) ابن ماجه، کتاب المناسک، باب رفع الصوت بالتلبية) صلى الله (المستدرک علی الصحیحین کتاب المناسک، باب تلبية رسول الله عليهم) (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الحج، باب من كان يرفع صوته بالتلبية روایت نمبر ۱۵۰۵۷)