صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 208 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 208

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۰۸ بَابِ ٢٥ : رَفْعُ الصَّوْتِ بِالْإِهْلَالِ لبیک کہنے میں آواز بلند کرنا ٢٥-كتاب الحج ١٥٤٨: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ :۱۵۴۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا۔حَرْبِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب (سختیانی) أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ ہے، ایوب نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله انس بن مالک) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر کی چار رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ رکھتیں اور میں نے سنا ہے کہ وہ حج اور عمرہ دونوں کا وَسَمِعْتُهُمْ يَصْرُحُوْنَ بِهِمَا جَمِيْعًا۔اکٹھا ہی نام لے کر بلند آواز سے لبیک پکارتے تھے۔اطرافه : ١٠٨٩، ١٥٤٦، ۱٥٤٧، ۱٥٥۱، ۱۷۱۲، ۱۷۱، ١٧15، ٢٩٥١، ٢٩٨٦۔تشریح: رفع الصَّوْتِ بِالْإِهْلَالِ : بعض فقہاء نے بلند آواز سے لبیک پکارنا ضروری قرار دیا ہے۔گو جمہور کے نزدیک یہ مستحب ہے نہ واجب۔امام مالک نے جامع مسجد میں بلند آواز سے لبیک پکارنا ممنوع قرار دیا ہے۔ان کے نزدیک مسجد احرام، مسجد منی اور دوسرے میقات حج میں بلند آواز سے تلبیہ ضروری ہے لے انہوں نے اس بارے میں ایک حدیث نبوی سے استدلال کیا ہے جسے ابو داؤد، ابن ماجہ تر ندگی، اور حاکم وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں: أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يُرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَّةِ۔يعنى جبریل میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے ساتھیوں کو حکم دوں کہ وہ اپنی آواز میں احرام باندھتے وقت اور تلبیہ میں بلند کیا کریں اور ابن ابی شیبہ نے بھی اس کی تائید میں نقل کیا ہے: كَانَ اَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ لَا يَرْفَعُونَ أصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَّةِ حَتَّى تَبِعْ أَصْوَاتُهُمْ کے یعنی صحابہ کرام اپنی آواز تلبیہ میں اتنی بلند کرتے کہ آوازیں بیٹھ جاتیں۔جمہورنے بلندی پر چڑھتے اور ساتھیوں سے ملتے وقت تلبیہ بآواز بلند مستحب قرار دیا ہے۔الله تفصیل کیلئے دیکھئے بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الإحرام) (مؤطا امام مالک، کتاب الحج، باب رفع الصوت بالإهلال ۲ (ترمذی، کتاب الحج، باب ماجاء في رفع الصوت بالتلبية) (ابوداؤد، كتاب المناسک، باب كيف التلبية) ابن ماجه، کتاب المناسک، باب رفع الصوت بالتلبية) (المستدرک علی الصحیحین، کتاب المناسک، باب تلبية رسول الله الله (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الحج، باب من كان يرفع صوته بالتلبية_روایت نمبر ۱۵۰۵۷)