صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 207
صحيح البخاری جلد ۳ ٢٠٧ ٢٥ - كتاب الحج وَاسْتَوَتْ بِهِ أَهَلَّ۔ الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ ذو الحلیفہ میں دو رکعت ۔ پھر آپ رات وہیں رہے۔ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَلَمَّا رَكِبَ رَاحِلَتَهُ یہاں تک کہ آپ کو صبح وہیں ہوئی۔ جب آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور وہ آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ نے اللهُمَّ لَبَّیک پکارا۔ اطرافه : ۱۰۸۹ ، ١٥٤٧ ، 15٤٨، 1551، ۱۷۱۲، ۱۷۱۴، ۱۷۱۵، ٢٩٥١، ٢٩٨٦۔ ١٥٤٧ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۱۵۴۷: قتیبہ بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عبد الوہاب نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) ایوب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ (نخستیانی) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابوقلابہ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ہے، ابوقلابہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَصَلَّى الْعَصْرَ ظہر کی چار رکعت نماز پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ قَالَ وَأَحْسِبُهُ نماز دو رکعت ۔ ابوقلابہ نے کہا: اور میرا خیال ہے آپ رات وہیں ٹھہرے۔ یہاں تک کہ صبح ہوگئی ۔ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ۔ اطرافه : 108۹ ، 1546، 1548، 1551، ۱۷۱۲، ۱۷۱۴، ۱۷۱۵، ٢٩٥١، ٢٩٨٦۔ تشريح : مَنْ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ : عنوانِ باب من الفاظ قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ بڑھا کر دراصل اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا مفصل ذکر باب نمبر ۲۰ کی تشریح کے ذکر میں ابھی گزر چکا ہے۔ سابقہ باب کی روایت (نمبر ۱۵۴۵) میں حضرت ابن عباس کے الفاظ فَأَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ قابل تشریح تھے۔ اس لئے اس روایت کے معا بعد یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ امام ابن حجر اور علامہ عینی کا خیال ہے کہ اس باب سے مقام احرام میں رات بسر کرنے اور صبح اُٹھ کر احرام باندھنے کا جواز ثابت کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ میقات پر پہنچتے ہی معا بعد احرام باندھ لینا چاہیے۔ اس میں توقف جائز نہیں ۔ ابن بطال کی رائے میں میقات میں رات قیام کرنا ارکان حج میں سے نہیں۔ غالباً اسی لئے امام بخاری نے جملہ شرطیہ کا جواب حذف کر دیا ہے۔ ( شرح صحیح البخاری لابن بطال جزء ۴ صفحه ۲۱۹) ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۱۳ ) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۱۶۹)