صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 206 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 206

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۰۶ ٢٥ - كتاب الحج الفاظ میں روایت نقل کی ہے: قَالَ كَانَ أَصْحَابُنَا إِذَا أَتَوْا بِئْرَمَيْمُونِ اغْتَسَلُوا وَلَبِسُوا أَحْسَنَ ثِيَابِهِمْ فَدَخَلُوا فِيهَا مَكَّةَ ۔ ہمارے ساتھی جب چاہ میمون پر آتے تو نہاتے اور اپنے اچھے کپڑے پہن کر مکہ میں داخل ہوتے۔ ( فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۵۱۲) خلاصہ باب یہ ہے کہ سلے ہوئے کپڑوں میں سے عورت نقاب اور برقعہ کے سوا باقی ہر قسم کا لباس اور رنگوں میں سے دو ممنوع رنگوں کے سوا باقی رنگ استعمال کر سکتی ہے اور عند الضرورت احرام کا جوڑا بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ الْمُزَعْفَرَةَ الَّتِي تَرْدَعُ : الرَّدْعُ کے معانی ہیں اللَّطْحُ بِالزَّعْفَرَان یعنی زعفران سے رنگے ہوئے۔ نیز خوشبو کے نشان کو بھی کہتے ہیں۔ (لسان العرب تحت ردع ) وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ بُدْنِهِ: جب تک قربانی ذبح نہ کی جائے ؟ تب تک احرام نہیں کھولا جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قربانی کے اونٹ تھے۔ الْحَجُون : مضافات مکہ مکرمہ میں محصب کے قریب ایک پہاڑی ہے جو بیت اللہ سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۶۹) أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطَّوَّفُوا ۔۔۔ ثُمَّ يُحِلُّوا : یعنی صحابہ میں سے ان لوگوں کو جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہ تھے سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بعد اپنے بال کٹوائیں اور پھر احرام کھول دیں۔ انہوں نے تمتع یعنی حج و عمرہ اکٹھا ادا کرنے کی نیت کی تھی۔ بَاب ٢٤ : مَنْ بَاتَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ جوز والحلیفہ میں رات بسر کرے اور صبح تک ٹھہرے قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ سے یہ روایت نقل کی ۔ ١٥٤٦ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۵۴۶: عبداللہ بن محمد (مسندی) نے مجھ سے مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ بیان کیا، کہا: ) ہشام بن یوسف نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کیا ۔ ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا : ( محمد الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ بن منکدر نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس بن مالک اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا وَبِذِي عليہ وسلم نے مدینہ میں چار رکعت نماز پڑھی اور