صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 205
صحيح البخاری جلد۳ ۲۰۵ ٢٥- كتاب الحج فقہاء کا یہ اختلاف در اصل قیاس پر مبنی ہے۔اس میں نص صریح کوئی نہیں۔سعید بن منصور نے اسود سے یہ روایت نقل کی ہے: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَسْدِلُ الْمَرْأَةُ جِلْبَابَهَا مِنْ فَوْقِ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا۔حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا : عورت اپنا جلباب (بڑی چادر ) اپنے سر کے اوپر سے اپنے چہرے پر ڈال لے اور ابن منذر نے بھی ایک روایت ان الفاظ میں نقل کی ہے: عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَإِذَا مَرَّ بِنَا رَكُبٌ سَدَلْنَا عَلَى وُجُوهِنَا القَرُبَ۔۔۔۔وَإِذَا جَاوَزَ الرَّكْبُ رَفَعْنَاهُ (فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۱) (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في التروك وهو ما يمنع الإحرام) یعنی ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں بحالت احرام بغیر پردہ کے ہوتیں؛ جب قافلہ آتا تو کپڑا چہرے پر ڈال لیتیں اور جب گزر جاتا تو اسے اُٹھا لیتیں۔غرض اس بات پر اجماع ہے کہ عورت بحالت احرام سلا ہوا لباس پہن سکتی ہے۔اسی طرح موزے اور اوڑھنی بھی۔مگر نقاب ( برقعہ ) نہیں۔البتہ چہرے کو بوقت ضرورت ڈھانپ سکتی ہے۔لَا أَرَى الْمُعَصْفَرَ طِيبًا : تیرا حوالہ حضرت جابر بن عبداللہ کے قول کا ہے۔امام شافعی اور مسند نے ان سے یہ روایت ان الفاظ میں موصول نقل کی ہے: لَا تَلْبَسُ الْمَرْأَةُ ثِيَابَ الطَّيبِ وَلَا أَرَى الْمُعَصْفَرَ طِيبًا۔(الأم للشافعي، كتاب الحج، باب ما تلبس المرأة من الثياب، جز ۲ صفحه ۱۳۷) یعنی عورت خوشبو دار کپڑے نہ پہنے۔مگر کسم میرے نزدیک خوشبو نہیں۔(فتح الباری جزء ۳ صفحه۵۱۱) لَمْ تَرَ عَائِشَةُ بَأْسًا بِالْحُلِيِّ وَالثَّوْبِ الأسْوَدِ وَالْمُوَرَّدِ وَالْحُقِّ لِلْمَرْأَةِ: چوقا حوالہ حضرت عائشہ کے فتویٰ کا ہے۔بیہقی نے بھی زیور، سیاہ اور گلابی کپڑوں سے متعلق ایک روایت نقل کی ہے جس کے یہ الفاظ ہیں : أَنَّ اِمْرَأَةٌ سَأَلَتْ عَائِشَةَ مَا تَلْبَسُ الْمَرْأَةُ فِى إِحْرَامِهَا؟ قَالَتْ عَائِشَةُ : تَلْبَس مِنْ خَزْهَا وَبَرْهَا وَأَصْبَاغِهَا وَحُلَيْهَا۔(سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب ما تلبس المرأة المحرمة من الثياب، روايت نمبر ۸۸۶۱، جزء ۵ صفحه ۵۲ ) ( فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۵۱) ایک عورت نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ عورت اپنے احرام میں کیا لباس پہنے تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے ریشمی اور عام پوشاک پہنے اور ایسے ہی رنگ اور زیور بھی استعمال کرے۔باب نمبر ۶۴ روایت نمبر ۱۶۱۸ میں حضرت عائشہ کے گلابی کپڑا پہنے کا ذکر ہے۔لَا بَأْسَ أَنْ يُبْدِلَ ثِيَابَهُ : پانچواں حوالہ ابراہیم نخعی کے فتویٰ کا دیا گیا ہے۔عطاء بن ابی رباح کا بھی یہی فتویٰ تھا کہ بحالت احرام اگر کپڑے میلے ہو جائیں تو تبدیل کر لئے جائیں۔جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام تنعیم میں اپنے کپڑے تبدیل کئے۔(سنن الكبرى للبيهقى كتاب الحج، باب المحرم يلبس الثياب ما لم يهل فيه، روایت نمبر ۸۸۵۵، جزء ۵ صفحه ۵۲ ) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۶۷) بعض لوگوں نے احرام کا لباس بدلنا نا پسند کیا۔اس لئے ان کی غلطی کے ازالہ کی ضرورت پڑی ہے۔ابراہیم مخفی اور عطاء بن ابی رباح نے جواز کا فتویٰ ان الفاظ میں دیا ہے: يُغَيِّرُ الْمُحْرِمُ ثِيَابَهُ مَا شَاءَ یعنی محرم چاہے تو کپڑے تبدیل کر سکتا ہے۔سعید بن منصور نے ابراہیم نخعی سے ان