صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 204
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۰۳ ٢٥ - كتاب الحج :۔۔۔۔ ب تشريح : مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ : التُو اپنے کالباس - الرِّدَاء: وہ لباس جو پڑوں کے اوپر پہنا جائے۔ جیسے چوغہ، جبہ، ڈھتا ، چادر وغیرہ لمبا کوٹ بھی رداء کی قسم ہے۔ الإِزار : تہہ بند ۔ ہر لباس جو نچلے یہ سب حصہ میں پہنا جائے؛ ازار کہلاتا ہے۔ امام موصوف نے عنوانِ باب میں ان تین قسم کے لباسوں کا ذکر کر کے روایت نمبر ۱۵۴۵ کی بناء پر ان میں سے احرام کے لئے چادر اور تہ بند مخصوص کی ہے۔ اس تخصیص کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس روایت کے الفاظ فَلَمْ يَنْهَ عَنْ شَيْءٍ مِّنَ الْأَرْدِيَةِ وَالْأَزْرِ سے ظاہر ہے کہ ہر قسم کی رداء اور ازار پہنے کی اجازت ہے۔ مگر باب نمبر ۲۱ کی روایت نمبر ۱۵۴۲ میں قمیص، پگڑی، پاجامہ، برنس ( کن ٹوپ) اور موزے پہنے کی صریح ممانعت ہے اور سلے ہوئے لباس ہیں جو مردوں کے لئے احرام کے وقت پہنے ممنوع ہیں۔ اس لئے امام موصوف کو لباس احرام سے متعلق تخصیص کی ضرورت پڑی ہے اور اس لئے بھی کہ فقہاء نے سوال اُٹھایا ہے کہ اگر تہہ بند نہ ملے تو کیا پاجامہ پہن لے۔ امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں۔ اگر پہنے تو فدیہ دے ۔ (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في التروك وهو ما يمنع الإحرام) لیکن سوال یہ ہے کہ ایسے محتاج شخص پر جس تہہ بند بھی میسر نہ ہو؛ حج واجب نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے سلے ہوئے لباس کے بارہ میں کوئی استثناء نہیں فرمائی۔ جبکہ چپلیاں نہ ملنے کی صورت میں عليه استثناء کی ہے۔ ( نمبر ۱۵۴۲) احرام کے دو لباس ہیں جو حج سے خاص تعلق رکھتے ہیں ؛ جن کا ذکر آگے آئے گا۔ عرب لوگ ننگا طواف کرتے تھے۔ ان میں سے جو متمدن تھے وہ صرف تہہ بند باندھتے ، باقی کپڑے اُتار دیتے۔ ایک شاعر کہتا ہے :- لَمَّا رَأَيْتُ مُنَادِيَهُمْ أَلمَّ بِهِمْ شَدَدْتُ مِنْزَرَ إِحْرَامِي وَلَبَّيْتُ صلى الله 2 المنثور لابن الجوزی، صفحه (۴۸) ترجمہ: جب میں نے ان کے منادی کو آواز دیتے سنا کہ آؤ چلیں تو میں نے نہ بند باندھ لیا اور لبیک کہا۔ الشَّيَابِ الْمُعَصْفَرَة : عنوان باب میں چند حوالے دئے گئے ہیں۔ پہلا حوالہ حضرت عائشہ کا ہے کہ انہوں نے اپنے احرام میں کسمی رنگ کے سلے ہوئے کپڑے پہنے۔ یہ روایت سعید بن منصور اور بیہقی نے نقل کی ہے۔ امام مالک نے کسم کا استعمال جائز قرار دیا ہے۔ لیکن امام ابو حنیفہ اور امام ثوری نے کسم کو بھی ایک قسم کی خوشبو قراردے کر اس کے استعمال پر فدیہ عائد کیا ہے۔ جمہور امام مالک کی تائید میں ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۵۱۱) (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول فى التروك وهو ما يمنع الإحرام) لَا تَلَنَّمْ وَلَا تَتَبَرُقَعُ : دوسرا حواله الشام ( منه پوش) اور برقعہ نہ پہننے کا ہے۔ یہ بھی سعید اور یہ بھی سعید اور بیہقی سے مروی ہے۔ لثام وہ نقاب ہے جو آنکھوں کے نیچے اور ناک پر باندھا جاتا ہے۔ اور امام مالک سے مروی ہے کہ فاطمہ بنت منذر کہتی تھیں کہ ہم بحالت احرام اوڑھنیوں میں منہ چھپائے رکھتے تھے۔ اس بات پر آئمہ اور فقہاء کا اتفاق ہے کہ عورت بحالت احرام سر اور بالوں کو نہ ڈھانے۔ مگر انہوں نے چہرہ چھپانے کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ امام مالک حضرت ابن عمر کی روایت کی بناء پر چہرے کو ٹھوڑی سے اوپر سر تک ننگا رکھنے کے حق میں ہیں۔ جبکہ امام شافعی ، ثوری اور احمد بن حنبل وغیرہ کے نزدیک چہرہ پیشانی تک چھپانا ضروری ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۵۱۱ ) (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول فى التروك وهو ما يمنع الإحرام)