صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 7
صحيح البخاری جلد ۳ ٢٤ - كتاب الزكاة ہماری موجودہ مشکل اور اس کے حل کا صحیح طریق : یہ حصہ مضمون الگ تفصیل کا تاج ہے جو اپنی جگہ پر بیان ہوگا۔اس میں شبہ نہیں کہ موجودہ حالات میں عالم اسلامی کے سامنے ایک حقیقی مشکل در پیش ہے۔جس کاحل دشوار نہیں۔اگر اسلامی ممالک میں اولوالامر اسلام کی اصولی تعلیم مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اجتہاد کو بروئے کار لائیں، جیسا کہ پہلے لایا گیا ہے۔اگر ایسا کیا جائے تو یقینا کئی راستے موجودہ مشکلات حل کرنے کے نکل سکتے ہیں۔مگر اس کا طریق یہ نہیں کہ سودی کاروبار کرنے والے ممالک کی تقلید کی جائے۔بلکہ وہ پاکیزہ طریق ہے جس کی طرف اسلام نے نظام زکوۃ میں ہماری راہنمائی فرمائی ہے اور جس کی بنیا د شفقت علی خلق اللہ اور تعاون بالبر اور تقویٰ پر ہے۔دونوں طریق یعنی زکوۃ اور سود آپس میں ضدین ہیں۔سودی کاروبار میں ساہوکار افراد کا رو پید اپنے پاس سمیٹتا اور ان کو تہی دست کرتا چلا جاتا ہے اور زکوۃ میں روپیہ کمزور افراد کو دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو معاشرہ کے کارآمد وجود بنا سکیں۔صرف ضرورت ہے دانشمندانہ تنظیم کی اور ضرورت ہے اس دانشمندانہ اجتہاد کی جو موافق اور مخالف حالات کا جائزہ لے کر قوم کی خوابیدہ طاقتوں کو مثبت اور منفی جہتوں میں بیدار کرتا ہے۔جیسا کہ اس سے قبل مسلمانوں نے اپنی قوت اجتہاد کو بروئے کار لا کر رومانی اور ایرانی قیاصرہ اور خستہ حال قوموں کی اصلاح کی۔جس کا اقرار کئی غیر مسلم مصنفین کو بھی ہے؛ جیسا کہ M۔N۔Roy لکھتے ہیں :- "The creed of Mohammad made peace at home, and the martial valour of the saracans conferred the same blessing on the people inhabiting the vast territories from Samarcand to Spain" (The Historical Role of Islam, Chapter 2:The Mission of Islam, Page:20 یعنی عقیدہ اسلام نے اپنے وطن میں امن قائم کیا اور عربوں کی سپاہیانہ قابلیت نے سمرقند سے پین تک وسیع علاقوں میں آباد قوموں کو وہی امن کی برکت عطا کی جو عربوں کی قوم کو۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب الاذان تشریح باب ۱۵۲۔بَاب ۱ : وُجُوْبُ الزَّكَاةِ زکوۃ کا فرض ہونا وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور نماز کو تمام شروط وَأتُوا الزَّكوةَ (البقرة : ٤٤) وَقَالَ ابْنُ کے ساتھ سنوار کر ادا کرو اور زکوۃ دو اور حضرت عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَنِي أَبُو (عبدالله) بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ حَدِيثَ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا اور انہوں نے