صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 6 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 6

صحيح البخاري - جلد۳ ٢٤ - كتاب الزكاة مذکورہ بالا نصاب کی تعیین میں بھی افراد کی معاشی ضرورت کا تحفظ مقدم رکھا گیا ہے۔تزکیہ نفس یا اخلاقی و روحانی اعتبارات میں بھی دراصل افراد اور سوسائٹی کا تحفظ اور اس کی اعلیٰ سے اعلیٰ ترقی مقصود بالذات ہے۔بے کار جمع شدہ دولت جو نصاب کی حد مقدار یا اس سے زیادہ ہو ؟ اس پر جو ز کوۃ عائد کی گئی ہے؛ اس کی علت غائی بھی یہی ہے کہ ایسی بے کار دولت والا انسان جو اسلامی معاشرہ کا فرد ہے اور اس کے نظام کی برکات سے متمتع ہے؛ اپنا سرمایہ زرعی، تجارتی یا صنعتی کاروبار پر لگائے۔ورنہ سالانہ زکوۃ نکالتے رہنے پر اس کے سرمایہ کا خاتمہ ہو جائے گا۔دولت کے متعلق اسلامی نظریہ یہ ہے کہ وہ طیبات اکل وشرب وغیرہ دولت کے متعلق اسلامی نظریہ: حوائج ضروریہ پر خرچ ہو یا پھر سامان زیست کی پیداوار میں نتیجہ خیز طریق پر لگائی جائے۔جس کے لئے عقل و عمل درکار ہے۔سیم و زر جو در حقیقت تبادلہ اشیاء کا ذریعہ ہیں، وہ سود سے کسب معاش کا ذریعہ نہ بنائے جائیں۔اسلام میں چونکہ سودی کاروبار حرام قرار دیا گیا ہے۔اس لئے اسلامی نظام کے ماتحت ایک فرد اپنی دولت سے متعلق مذکورہ بالا دور استوں میں سے ایک راہ اختیار کر سکتا ہے۔زکوۃ تو اس کو دونوں صورتوں میں دینا پڑے گی۔پہلی صورت میں تجارتی حساب سے اور دوسری صورت میں اصل سرمایہ سے اور دونوں کا فرق ظاہر ہے۔اسلامی نظام کی بنیاد رحم و شفقت و نیک تعاون اور تقویٰ پر ہے اور اس میں ایمان و عمل صالح اور محنت برحل ہی قابل معاوضہ قرار دیئے گئے ہیں۔اس لئے سود کی لین دین حرام کی گئی ہے کہ وہ روح اسلامی کے منافی ہے اور معاشرہ اسلامیہ میں اس کے لئے کوئی گنجائش نہیں کہ وہ اس کے تقاضاؤں کے خلاف ہے۔یہ مجمل خاکہ ہے اسلامی نظام مالیات کا۔اس تعلق میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے ملک میں جس کی آبادی مخلوط ہو، مسلم اور غیر مسلم ؛ دونوں کسب معاش کے ذرائع سے مستفید ہونے میں قانونا آزاد ہوں، ایک مسلمان کا روباری جسے اپنے اموال پر زکوۃ ادا کرنی پڑتی ہے اور اس کے بالمقابل ایک غیر مسلم جو اس سے آزاد ہے وہ منڈی میں جہاں آزادانہ مقابلہ ہے؟ اپنی پونچھی یا تو سستے د سستے داموں نکالے گا یا اگر نرخ کا تقرر مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے تو خواہ دونوں کی پونچھی کا نکاس ایک نرخ پر ہو، حاصل کرنے میں غیر مسلم کا پلہ بھاری رہے گا۔کیونکہ زکوۃ کے بار سے وہ سبکدوش ہے اور آج جبکہ ساری دنیا ایک مشترکہ منڈی کی حالت میں ہے اور اقوام عالم پوری شدت سے مقابلہ میں سرگرم ہیں، مسلمان کے لئے جو ز کوۃ ادا کرتا ہے دولت بڑھانے کے مواقع بظاہر سازگار نہیں معلوم ہوتے۔خصوصاً جبکہ وہ قومیں سودی کاروبار سے بھی اپنی تجارت کو فروغ دینے میں مطلق العنان ہیں۔جب صورت حال یہ ہے تو اسلام نے اپنے نظام مالیات میں اس کے تدارک کی کیا تجویز کی ہے؟ موجودہ موضوع یعنی زکوۃ کے تعلق میں اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ زکوۃ کے آٹھ مصارف ( باب نمبر ۱۴ تا ۱۸ ) کی غرض وغایت میں اس کا تدارک مضمر ہے۔یعنی کمزور اور بے کا رطبقہ کی ضروریات زندگی کا تحفظ اس لئے کیا گیا ہے کہ اس کو بجائے عضو معطل کے کار آمد وجود بنایا جائے۔یہ نظام اگر معقول اور منظم طریق سے مضبوط بنیاد پر قائم کیا جائے تو یہی کمزور طبقہ قومی دولت بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔اس کے برعکس سود خور نظاموں میں افراد کی دولت لوٹ پوٹ کر چند ہاتھوں میں آتی رہتی ہے۔جس سے سینکڑوں افراد سرمایہ داری کی زنجیروں میں جکڑ کر رہ جاتے ہیں۔