صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 202 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 202

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۰۴ ٢٥ - كتاب الحج جیسا کہ آپ نے الفاظ تلبیہ کی بھی اصلاح فرمائی ہے۔ مشرکین عرب الفاظ لَا شَرِیک کے بعد استثنیٰ کرتے اور کہتے تھے: إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ۔ یعنی تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہی جو تیرا شریک ہے جس کا تو مالک ہے اور اس چیز کا بھی مالک ہے جس کا وہ تیرا شریک مالک ہے۔ (مسلم، کتاب الحج، باب التلبية وصفتها)(سنن الكبرى للبيهقي، كتاب الحج، باب ما كان المشركون يقولون في التلبية، روایت نمبر ۸۸۱۹، جزء ۵ صفحه ۴۵) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۲۶۵ تشریح باب ۶۷ ) اس روایت سے واضح ہے کہ آپ عرفات سے منی تک سوار رہے اور سواری کی حالت ہی میں جمرۃ العقبہ پر کنکریاں پھینکیں اور یہ فعل خاتمہ حج ہے۔ اس ضمن میں باب نمبر اوا بھی دیکھئے۔ بَاب ۲۳ : مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ القِيَابِ وَالْأَرْدِيَةِ وَالْأُزْرِ محرم کپڑوں، چادروں اور تہ بندوں میں کون کونسا لباس پہنے وَلَبِسَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے گسمی رنگ کے النِّيَابَ الْمُعَصْفَرَةَ وَهِيَ مُحْرِمَةٌ کپڑے پہنے جبکہ وہ احرام باندھے ہوئے تھیں۔ اور وَقَالَتْ لَا تَلَنَّمْ وَلَا تَتَبَرْقَعُ وَلَا تَلْبَسُ وہ کہتی تھیں: نہ منہ پوش پہنے اور نہ برقعہ اور نہ ایسا کپڑا با زعفران لگی ہو۔ اور حضرت قَوْبًا بِوَرْسٍ وَلَا زَعْفَرَانٍ وَقَالَ جَابِرٌ پہنے، جس میں درس یا زعفران لَا أَرَى الْمُعَصْفَرَ طِيبًا وَلَمْ تَرَ عَائِشَةُ جابر نے کہا میں کم و خوشبو ہیں سبھتا۔ اور حضرت بَأْسًا بِالْحُلِيِّ وَالثَّوْبِ الْأَسْوَدِ عائشہ نے عورت کے لئے زیور اور سیاہ اور گلابی رنگ کے کپڑے اور موزے پہننے میں کوئی حرج نہیں وَالْمُوَرَّدِ وَالْخُفْ لِلْمَرْأَةِ وَقَالَ سمجھا۔ ابراہیم (شخصی) نے کہا: کوئی حرج نہیں جو اپنے إِبْرَاهِيمُ لَا بَأْسَ أَنْ يُبْدِلَ ثِيَابَهُ۔ کپڑے بدلے۔ ١٥٤٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي :۱۵۴۵: محمد بن ابی بکر مقدمی نے ہم سے بیان کیا، بَكْرِ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ (کہا) فضیل بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ نے کہا کہ موسیٰ بن عقبہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے کہا: قَالَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ کریب نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ انْطَلَقَ الله عنہا سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ عليه وسلم مدینہ سے کنگھی کرکے، تیل لگانے، نہ بند اور می کسم ایک پھول ہے جس سے شہاب یعنی گہرا سرخ رنگ نکلتا ہے اور کپڑے رنگے جاتے ہیں۔ (اردو لغت - کسم )