صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 201 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 201

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۰۱ ٢٥ - كتاب الحج وَيُلْقِي الْقُمَّلَ مِنْ رَّأْسِهِ وَ جَسَدِهِ فِي کو سر یا بدن سے نکال کر زمین پر ڈال دے۔ (ان کو الْأَرْضِ۔ } مارے نہیں۔) اطرافه : 1٣٤ ، 366 ، 1838 ، ١٨٤٢، ۵۷۹٤، ٥٨۰۳، ٥٨٠٥، ٥٨٠٦، ٥٨٤٧، ٥٨٥٢۔ تشریح : الخفاف: موزے ۔ موزے سے سے مراد چڑے کا موزہ ہے جو رب میں مستعمل تھا اوراب بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ روایت کتاب العلم باب ۵۳ میں بھی گذر چکی ہے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۱۳۴ نیز کتاب جزاء الصيد باب ۱۳ و ۱۵۔ باب ۲۲ : الرُّكُوْبُ وَالارْتِدَافُ فِي الْحَجِّ حج میں سوار ہونا اور کسی کے پیچھے سواری پر بیٹھنا ١٥٤٣-١٥٤٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ۱۵۴۳-۱۵۴۴: عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان ابْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ کیا، (کہا: ) وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ الْأَيْلِيِّ عَنِ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس (بن یزید ایلی) سے، یونس نے زہری سے، زہری نے الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ عبید اللہ نے حضرت ابن ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَسَامَةَ عبد الله بن عبد اللہ سے عبد عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت اسامہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى رضی اللہ عنہ عرفات سے مزدلفہ تک بی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ إِلَى کے ساتھ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ پھر آپ الْمُزْدَلِفَةِ ثُمَّ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنَ نے مزدلفہ سے منی تک حضرت فضل ( بن عباس) کو الْمُزْدَلِفَةِ إِلَى مِنَى قَالَ فَكِلَاهُمَا قَالَ اپنے پیچھے بیٹھا یا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: تو یہ لَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دونوں کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لبیک کہتے يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ۔ رہے؛ یہاں تک کہ جمرہ عقبہ پر آکر آپ نے کنکریاں پھینکیں ۔ اطراف الحديث ١٥٤٣ : ١٦٨٦ ۔ اطراف الحديث ١٥٤٤ : ١٦٧٠ ، 1685، 1687۔ بعد تشريح : الرُّكُوبُ وَالْإِرْتِدَافَ فِي الْحَج زمانہ جاہلی میں سوارہو کرج کرنا خلاف عظیم بیت اللہ اور سخت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول اور عمل سے اگر اور عمل سے اس وہم کا ازالہ فرمایا یہ عبارت فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری ج تح الباری جزء ۳ حاشیه صفحه ۵۰۵)