صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 200
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۰۰ ٢٥ - كتاب الحج غرض حضرت ابن عمر نے حضرت ابن عباس کی روایت قبول نہیں کی۔ابوداؤد اور حاکم کی روایتیں اس اختلاف کو حل کرتی ہیں کہ ذوالحلیفہ کی مسجد میں آپ نے دو رکعت پڑھنے کے بعد حج کا احرام باندھا اور لبیک پکارا۔جو صحابہ وہاں موجود تھے، انہیں واقعہ یا د رہا۔پھر آپ نے (جب سوار ہوئے ) لبیک پکارا اور جن صحابہ نے آپ کو سوار ہوتے وقت لبیک پکارتے سنا، انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا ہے اور تیسری بار پھر آپ نے اس وقت لبیک پکارا، جب بیداء کی گھائی پر چڑھے اور آپ کے ساتھی سمجھے کہ یہاں سے ابتدائے تلبیہ ہے۔یکے بناء بریں ہر سہ مقامات سے جمہور نے ہی تلبیہ کی ابتداء کرنا جائز قرار دیا ہے۔عنوانِ باب سے امام بخاری کی رائے اس بارے میں واضح ہے۔بیداء کے معنے بیابان۔بَاب ۲۱: مَا لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ القِيَابِ محرم کیا کپڑے نہ پہنے ١٥٤٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۵:۴۲: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَّافِعِ عَنْ ) کہا : ( مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ سے، نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رَجُلًا قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَا يَلْبَسُ سے روایت کی کہ ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ ! الْمُحْرِمُ مِنَ القِيَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ محرم کیا کپڑے پہنے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لَا يَلْبَسُ الْقَمُصَ وَلَا الْعَمَائِم نے فرمایا کہ قمیص نہ پہنے اور نہ عمامہ اور نہ پاجامہ وَلَا السَّرَاوِيْلَاتِ وَلَا الْبَرَانِسَ وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسُ حُفَّيْن وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْن وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ القِيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ زَعْفَرَانٌ أَوْ وَرْسٌ۔اور نہ کنٹوپ اور نہ موزے مگر جس کو جوتی نہ ملے تو وہ موزے پہنے اور انہیں مخنوں سے نیچے تک کاٹ ڈالے اور نہ وہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران یا ورس لگی ہو۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ { ابو عبد الله (امام بخاری) نے کہا: محرم اپنا سر دھو سکتا رَأْسَهُ وَلَا يَتَرَجَّلُ وَلَا يَحُبُّ جَسَدَهُ ہے لیکن کنگھی نہ کرے، نہ اپنا بدن کھجلائے اور جوؤں ے اس حصہ کا ذکر کتاب الحج باب ۲ روایت نمبر ۱۵۱۵،۱۵۱۴ میں بھی ہے۔(ابوداؤد، کتاب المناسک ، باب فى وقت الإحرام (المستدرک الحاکم، کتاب المناسک تلبية ما على الأرض من يمين الملبّى وشماله، جزء اول صفحه ۴۵۱)