صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 199
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۹۹ ٢٥ - كتاب الحج کے بال جما لیتے تھے۔ تا سر غبار ، پھنے اسر غبار، پھنسیوں اور جوؤں سے محفوظ رہے۔ سے محفوظ رہے۔ تلبید ( بال جمانے ) میں خطمی ، آس اور سدر کے بیج کا نقوع تیار کر کے اس میں گوند ملائی جاتی تھی۔ كتاب الحيوان جاحظ، الجزء الخامس فى القمل والصواب، تلبيد الشعر) باب ۲۰ : الْإِهْلَالُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ ذو الحلیفہ کی مسجد کے پاس اللهم لبیک پکارا جائے ١٥٤١ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۵۴۱: علی بن عبداللہ (ابن مدینی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ بیان کیا، کہا:) سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ بیان کیا ، ( کہا: ) موسیٰ بن عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَحَدَّثَنَا انہوں نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے (حضرت عبداللہ ) ابن عمر عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ رضى الله عنها سے سنا۔ اور عبداللہ بن مسلمہ ( قعنبی) مُّوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے مالک سے، مالک نے أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُوْلُ مَا أَهَلَّ رَسُوْلُ اللهِ موسى بن عقبہ سے، موسیٰ نے سالم بن عبداللہ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ روایت کی کہ انہوں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ کہتے الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ۔ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے پاس ہی سے احرام باندھا۔ ان کی مراد ذوالحلیفہ کی مسجد تھی ۔ تشريح : الْإِهْلَالُ عِنْدَ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ : باب نمبر میں اہل مدین کے احرام باندھنے کی جگہ کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہ باب ایک اختلاف مد نظر رکھتے ہوئے قائم کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت نمبر ۱۵۴۵ سے ظاہر ہے کہ جب بیداء مقام پر آپ پہنچے تو آپ اپنی اوٹنی پر سوار ہوئے تو آپ نے اللهم لبیک پکارا۔ اس روایت کی بناء پر ایک فریق بیداء سے ہی احرام حج کی ابتداء کرتا تھا اور حضرت ابن عمرؓ نے انہیں سختی سے روکا اور کہا کہ هَذِهِ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تُكَذِّبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللهِ الله وَاللهِ مَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ لهُ إِلَّا مِنْ عِندِ الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ۔ (مسند الحمیدی، فی الحج روایت نمبر ۶۵۹ ، جزء ۲ صفحه ۲۹۱) یه بیداء جس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت تم خلاف واقعہ بیان کرتے ہو بخدا وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لبیک نہیں پکارا۔ بلکہ مسجد کے پاس سے یعنی ذوالحلیفہ کی مسجد ۔ ذو الحلیفہ کی مسجد سے ۔ امام مسلم نے بھی یہ روایت بایں الفاظ تا الفاظ نقل کی ہے: کے كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا قِيلَ لَهُ الْإِحْرَامُ مِنَ الْبَيْدَاءِ قَالَ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا ۔ (مسلم، كتاب الحج، باب أمر أهل المدينة بالإحرام من عند مسجد ذي الحليفة)