صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 198
صحيح البخاری جلد۳ ۱۹۸ ٢٥- كتاب الحج وَطَافَ ابْنُ عُمَرَ۔۔۔۔وَقَدْ حَزَمَ عَلَى بَطْنِهِ بِثَوْب : یہ قول امام شافعی نے طاؤس سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر کو طواف کرتے دیکھا اور انہوں نے اپنے پیٹ پر کپڑے کی پیٹی باندھی ہوئی تھی۔(مسند الشافعي، كتاب المناسک، جزء اصفحہ ۱۱۹) ابو بکر ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عمر کا یہ قول نقل کیا ہے: لا تَعْقِدُ عَلَيْكَ شَيْئًا وَاَنْتَ مُحرِم۔مصنف ابن ابی شیبه کتاب الحج، باب في المحرم يعقد على بطنه الثوب، جزء۳ صفحه ۴۰۹) یعنی کوئی شے اپنے بدن پر نہ باندھ جبکہ تو بحالت احرام ہو۔یہی وجہ ہے کہ امام بخاری کو حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمر کے حوالے دینے کی ضرورت پیش آئی ہے۔غرض ابن ابی شیبہ اور اسحاق کی اس قسم کی ممانعت کے بارے میں روایات قابل توجہ نہیں۔امام موصوف نے بوقت احرام عطر استعمال کرنے سرمیں تیل لگانے اور کنگھی کرنے کے بارے میں عنوان باب قائم کیا ہے اور اس باب سے متعلق تین روایتیں نقل کی ہیں جن سے یہ تینوں باتیں ثابت ہوتی ہیں۔مانگ کنگھی سے ہی نکالی جاتی ہے۔عنوان باب میں جو حوالہ جات دئے گئے ہیں۔ان سے جہاں صحابہ کرام کی فقیہانہ وسعت نظر ثابت کرنا مقصود ہے۔وہاں ابو بکر ابن ابی شیبہ وغیرہ کی روایات کا رڈ بھی مد نظر ہے۔بَابِ ۱۹: مَنْ أَهَلَّ مُلَبّدًا جس نے بالوں کو جما کر احرام باندھا ١٥٤٠ : حَدَّثَنَا أَصْبَغُ أَخْبَرَنَا ابْنُ ۱۵۴۰: اصبغ (بن فرج) نے ہم سے بیان کیا، کہا: وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عبد اللہ بن وہب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے، سَالِمٍ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب نے سالم سے، سالم نے اپنے باپ (حضرت عبداللہ بن عمر ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللهم لبیک۔۔۔پکارتے سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ تشریح: وَسَلَّمَ يُهل مُلَيّدًا۔سنا۔(آپ نے) سر کے بال جمائے ہوئے تھے۔اطرافه ١٥٤٩، ۵۹۱٤، ۰۹۱۵ مَنْ أَهَلَّ مُلَبَدًا : امام موصوف نے باب ۱۹ کا عنوان جملہ شرطیہ رکھ کر جواب حذف کر دیا ہے اور اس ضمن میں روایت نمبر ۱۵۴۰ جو نقل کی گئی ہے، اس سے صرف اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال جمائے ہوئے تھے کہ پراگندہ نہ ہوں۔امام موصوف نے جواب شرط غالبا اس لئے حذف کیا ہے کہ امام شافعی نے بالوں کو جمانا مستحب قرار دیا ہے اور جمہور نے بال جمانے والے کے لیے سرمنڈوا نا بھی ضروری قرار دیا ہے اور یہ مسئلہ بعض ایسی روایتوں سے اخذ کیا ہے جو کمزور ہیں۔عرب بوقت سفر حج اور احرام کی حالت میں اپنے سر