صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 197
صحيح البخاری جلد۳ 192 ٢٥-كتاب الحج أُطَيِّبُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے خوشبو لگایا وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ حِيْنَ يُحْرِمُ وَلِحِلِهِ کرتی تھی اور ایسا ہی جب آپ احرام کھولتے یعنی قَبْلَ أَنْ يَطُوْفَ بِالْبَيْتِ۔اطرافه ،۱٧٥٤ ، ٥۹۲۲، ۵۹۲۸، ۰۹۳۰ بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے۔تشریح: الطَّيِّبُ عِنْدَ الْإِحْرَامِ وَمَا يَلْبَسُ : عنوان باب میں کئی ایک باتیں جن کا تعلق عام زینت کے ساتھ ہے؛ جمع کر کے مسئلہ کی اصل نوعیت واضح کی ہے۔یعنی خوشبولگا نا کنگھی کرنا، بالوں میں تیل لگانا، پھول سونگھنا، آئینہ دیکھنا اور انگوٹھی پہنا وغیرہ۔اس فہرست میں امام موصوف نے وَمَا يَلْبَسُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ کہہ کر بعض قسم کے سلے ہوئے لباس کا بھی ذکر کیا ہے جو عند الضرورت پہنا پڑے۔باب ۲۱ میں بھی لباس سے متعلق سوال اُٹھایا گیا ہے۔لیکن وہاں قسم لباس مراد ہے۔بعض فقہاء نے معمولی قسم کی زینت کی اشیاء کو بھی بوقت احترام مطلق ممنوع قرار دیا ہے۔جیسا کہ ابوبکر بن ابی شیبہ نے حضرت جابت سے خوشبودار پھول سونگھنے کی کراہیت کا ، طاؤس سے آئینہ دیکھنے کی ممانعت کا اور مجاہد سے ان کا یہ فتوی نقل کیا ہے کہ (إِن تَدَاوَى بِالسَّمنِ أَوِ الزَّيْتِ فَعَلَيْهِ دَم) اگرگھی یازیتون کے تیل سے ہاتھ پیر پھٹنے کا علاج کیا جائے تو قربانی دینی ہوگی۔پھول سونگھنا امام شافعی کے نزدیک ممنوع اور امام مالک اور احناف کے نزدیک مکروہ ہے۔اس قسم کے فتاوی کارڈ ان ابواب میں مقصود ہے۔فتح الباری جز ۳ صفحه ۵۰۰) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۱۵۳) بحالت احرام مرد کے لئے سلے ہوئے کپڑے پہنا جائز نہیں۔مگر پیٹی جس میں نقدی رکھی جاتی ہے وہ ایک ضرورت کے لئے ہے اور جائز ہے۔ایسا ہی حضرت عائشہ نے ایک بار حج کے سفر میں چھوٹے پائجامے ( نکریں ) لڑکوں کو پہننے کے لئے کہا۔کیونکہ وہ (ازار ) نہ بند باندھے ہوئے تھے۔کجاوہ باندھنے کی حالت میں برہنگی ہو جاتی تھی۔یہ سلے ہوئے کپڑے پہننے کی اجازت بھی حالات کے تحت تھی۔محرم کے لئے اس کے استعمال کی اجازت نہیں ہوتی۔يَتَدَاوَى بِمَا يَأْكُلُ الزَّيْتِ وَالسَّمُن: ميں ” بِمَا“ بِالَّذِی کے معنوں میں ہے۔یعنی جودہ کھاتا ہے۔زیتون کا تیل اور گھی وغیرہ بطور علاج استعمال کرنا جائز ہے۔ابوبکر ابن ابی شیبہ نے بھی حضرت ابن عباس کی یہ روایت نقل کی ہے : يَتَدَاوَى الْمُحْرِمُ اور ان کی یہ روایت بھی مذکور ہے: إِذَا تَشَقَّقَتْ يَدَا الْمُحْرِمِ أَوْ رِجْلَاهُ فَلْيَدَّ هَنْهُمَا بِالزَّيْتِ اَوُ بِالسَّمُنِ مصنف ابن ابی شیبه کتاب الحج، باب فيما يتداوى المحرم جز ۳۶ صفحه ۱۴۷، روایت نمبر ۱۲۹۲۱ ۱۲۹۲۲) یعنی محرم کے ہاتھ پاؤں اگر پھٹ جائیں تو ان پر تیل یا گھی لگانا جائز ہے۔يَتَخَيَّمُ وَيَلْبَسُ الهِمْيَانَ : انگوٹھی اور پیٹی پہنے کی بابت تمام فقہاء نے اجازت دی ہے؛ سوائے اسحاق کے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۵۰۰) قَالَ عَطَاءٌ يَتَخَتُمُ وَيَلْبَسُ الْهَمْيَانَ۔یعنی انگوٹھی اور کمر بند پہنے۔عطاء اور حضرت ابن عباس کا یہی فتویٰ دار قطنی نے نقل کیا ہے۔(سنن الدار قطنی، کتاب الحج، جز ۲ صفه ۲۳۳، روایت نمبر ۷ )