صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 196
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۹۶ ٢٥ - كتاب الحج بَطْنِهِ بِثَوْبٍ وَلَمْ تَرَ عَائِشَةُ بِالتَّبَّانِ حالت میں تھے ؛ طواف کیا اور انہوں نے پیٹ پر کپڑا بَأْسًا قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي } باندھا ہوا تھا۔ اور حضرت عائشہ نے جانگیہ (نکر ) ☆ لِلَّذِينَ يَرْحَلُوْنَ هَوْدَجَهَا ۔ پہننے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔ { ابو عبداللہ (بخاری) نے کہا: (حضرت عائشہ کی ) مراد یہ ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے جائز ہے جو اونٹ پر ہودج کہتے ہیں۔ ١٥٣٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ۱۵۳۷ : محمد بن یوسف (فریابی ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ کہا: سفیان ثوری ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، ابْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ منصور نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: اللهُ عَنْهُمَا يَدَّهِنُ بِالزَّيْتِ فَذَكَرْتُهُ (حضرت عبداللہ ) ابن عمر رضی اللہ عنہما (احرام باندھتے وقت ) تیل لگاتے تھے۔ (منصور کہتے تھے: ) لِإِبْرَاهِيمَ قَالَ مَا تَصْنَعُ بِقَوْلِهِ۔ میں نے ابراہیم سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ سعید بن جبیر کے اس قول کو کیا کریں گے۔ ١٥٣٨ : حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ عَنْ عَائِشَةَ ۱۵۳۸: انہوں نے کہا کہ ) اسود نے مجھے بتایا۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں وَبِيْصِ الطَّيْبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللهِ نے کہا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ ۔ میں خوشبو کی چمک کو اب بھی دیکھ رہی ہوں اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔ ١٥٣٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۵۳۹: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالرحمن بن قاسم الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ سے، عبد الرحمن نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ في صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كُنْتُ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: میں رسول اللہ صلی اللہ الفاظ ”قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ، نسخہ صغانی کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۵۰۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔