صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 195 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 195

صحيح البخاري - جلد۳ ۱۹۵ ٢٥- كتاب الحج الْخَلُوقِ أَوْ قَالَ صُفْرَةٌ۔منا بود او د طیالی میں یہ الفاظ ہیں : عَلَيْهِ جُبَّةٌ عَلَيْهَا أَثَرُ الْخَلُوقِ اور مسلم کی روایت میں بھی جو بسند عطاء منقول ہے یہی الفاظ ہیں۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۴۹۸) باب کا عنوان قائم کرنے میں جہاں یہ روایتیں مدنظر ہیں، وہاں ایک فقہی اختلاف کا حل بھی مد نظر ہے۔حج اور عمرہ میں جو باتیں ترک کی جاتی ہیں اُن میں سے ایک خوشبو بھی ہے۔بحالت احرام خوشبو نہ لگانے کے بارے میں فقہاء کے درمیان اتفاق ہے۔لیکن احرام باندھتے وقت خوشبو لگانا جس کا اثر بوقت احرام بھی باقی رہے، اسے امام مالک، محمد بن حسن وغیرہ نے مکروہ قرار دیا ہے اور صفوان بن یعلی کی مذکورہ بالا حدیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے۔مگر جمہور علماء (امام ابو حنیفہ ، شافعی ، احمد ، سفیان ثوری وغیرہ) نے خوشبو لگانا جائز سمجھا ہے۔ان کا استدلال حضرت عائشہ کی روایت نمبر ۱۵۳۸، ۱۵۳۹ سے ہے۔ان کے نزدیک صفوان بن یعلی کا روایت کردہ واقعہ جعرانہ مقام کا ہے جو بالاتفاق ۸ھ میں ہوا۔اس لئے بعد کا عمل قابل اعتماد ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۴۹۸) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۱۵۲) علاوہ ازیں محرم ( یعنی احرام حج باندھنے والے) کے لئے زعفران کا استعمال قطعا ممنوع ہے۔( باب ۲۱ روایت نمبر ۱۵۴۲) اس لئے قیاس یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت احرام زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے پہنا نا پسند فرمایا جو شادی بیاہ کے وقت پہنے جاتے ہیں۔جمہور کی دلیل امام بخاری نے قبول کی ہے۔دراصل یہ اختلاف ہی اصل وجہ ہے کہ انہوں نے عنوانِ باب میں لفظ خلوق اور ثیاب کو نمایاں کر کے اس میں جعرانہ والا واقعہ درج کیا ہے اور اس کے بعد الطيبُ عِندَ الْإِحْرَامِ کا باب ۱۸ الگ قائم کر کے اس میں حضرت عائشہؓ کی روایت نقل کی ہے۔باب ۱۸: الطَّيْبُ عِنْدَ الْإِحْرَامِ احرام باندھتے وقت خوشبو لگانا وَمَا يَلْبَسُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَيَتَرَجَّلَ اور جب احرام باندھنا چاہے تو کیا لباس پہنے اور کنگھی وَيَدَّهِنَ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله کرے اور تیل لگائے۔اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا يَشَمُ الْمُحْرِمُ الرَّيْحَانَ وَيَنْظُرُ نے کہا: محرم خوشبودار پھول سونگھ سکتا ہے اور آئینہ بھی فِي الْمِرْآةِ وَيَتَدَاوَى بِمَا يَأْكُلُ الزَّيْتِ دیکھ سکتا ہے اور تیل اور گھی جو وہ کھاتا ہے اس سے وَالسَّمْنِ وَقَالَ عَطَاء يَتَخَيَّمُ وَيَلْبَسُ علاج معالجہ بھی کر سکتا ہے۔اور عطاء ( بن ابی رباح) الْهِمْيَانَ وَطَافَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ الله نے کہا: انگوٹھی بھی پہن سکتا ہے اور کمر کی بیٹی بھی پہنے۔عَنْهُمَا وَهُوَ مُحْرِمٌ وَقَدْ حَزَمَ عَلَی اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جبکہ وہ احرام کی (مسند ابی داؤد الطيالسي الجزء السادس يعلى بن أمية- روایت نمبر ۱۳۲۳) 6 (مسلم، كتاب الحج، باب ما يباح للمحرم بحج او عمرة)