صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 194
صحيح البخاری جلد۳ ١٩٤ ٢٥- كتاب الحج فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّی علیہ وسلم پر ایک کپڑا تھا؟ جس سے آپ پر سایہ کیا گیا اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ وَهُوَ تھا اور آپ نے اپنا سر اُس کے اندر کر لیا۔تو کیا دیکھتے يَغِضُّ ثُمَّ سُرِيَ عَنْهُ فَقَالَ أَيْنَ الَّذِي ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہے اور سَأَلَ عَنِ الْعُمْرَةِ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ فَقَالَ آپ خراٹے لے رہے ہیں۔پھر اس کے بعد آپ سے یہ حالت جاتی رہی اور آپ نے فرمایا: وہ کہاں اغْسِل الطَّيِّبَ الَّذِي بِكَ ثَلَاثَ ہے جس نے عمرہ کی بابت پوچھا تھا؟ وہ آدمی لایا مَرَّاتٍ وَانْزِغْ عَنْكَ الْجُبَّةَ وَاصْنَعْ فِي گيا۔آپ نے فرمایا: وہ خوشبو جو کپڑے میں لگی ہے عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجَّتِكَ قُلْتُ تين بار دھو ڈال اور اس جبہ کو اُتار دے اور اپنے عمرہ لِعَطَاءِ أَرَادَ الْإِنْقَاءَ حِيْنَ أَمَرَهُ أَنْ میں وہی کر جو تو حج میں کرتا ہے۔(ابن جریج کہتے يَغْسِلَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ نَعَمْ۔تھے: ) عطاء سے میں نے پوچھا: آپ نے جب اس کو تین بار دھونے کا حکم دیا تو آپ کی مراد اچھی طرح صاف کرنا تھی ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔اطرافه: ۱۷۸۹ ، ۱۸٤۷، ٤۳۲۹، ٤٩٨٥ غَسُلُ الْخَلُوق ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِّنَ القِيَابِ: احرام میں مردوں کے لئے دو سادہ سفید تشریح: چادر ہیں۔ایک بطور تہ بند اور دوسری اوڑھنے کے لئے جس کا ایک سرا دائیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر اور دوسرا بائیں بغل سے نکال کر دائیں کندھے پر لٹکایا جاتا ہے۔عورتیں سادہ سلے ہوئے سفید کپڑے یعنی قمیص، پاجامہ اور دوپٹہ پہن لیتی ہیں۔پھر برقعہ یا زیبائش اور بناؤ سنگار نہ ہو۔احرام باندھنے سے پہلے مرد حجامت کروا سکتے ہیں مگر احرام کے بعد نہیں۔احترام کے معنوں میں یہ بات مضمر ہے کہ حج کے مخصوص لباس پہننے کے ساتھ بعض باتیں حاجی کے لئے حرام ہو جاتی ہیں۔جن میں سے خوشبو لگانا بھی ہے۔اَلْخَلُوق : ایک خوشبو ہے جس میں زعفران ڈالا جاتا تھا اور شادی بیاہ کے موقعوں پر یہ خوشبو استعمال ہوتی تھی اور بعض روایتوں میں بھی۔جنہیں علامہ عینی نے مفصل نقل کیا ہے۔بایں الفاظ صراحت ہے: فَآتَاهُ رَجُلٌ عَلَيْهِ جُبَّةٌ بِهَا اثرٌ مِنْ خَلُوقِ یعنی آپ کے پاس ایک شخص آیا۔اس کے چونے پر خوشبو کا اثر نمایاں تھا۔علامہ عینی کے نزدیک یہی وجہ ہے کہ مندرجہ بالا عنوانِ باب قائم کیا گیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۵۰) روایت نمبر ۱۵۳۶ میں کپڑوں کا ذکر نہیں، صرف یہ الفاظ ہیں: وَهُوَ مُتَصَمَخٌ بِطِیب اور نہ خلوق کا ذکر ہے۔اس کا جواب ان کی طرف سے یہ دیا گیا ہے کہ امام بخاری کی عادت ہے کہ بعض دوسری روایات میں وارد شدہ الفاظ مد نظر رکھ کر عنوان قائم کرتے ہیں۔جیسا کہ یہی روایت كتاب العمرة ، بابا، زیر رویت نمبر ۱۷۸۹ بھی نقل کی گئی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: عَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ