صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 5
صحيح البخاری جلد ۳ A ٢٤ - كتاب الزكاة نظام زکوۃ کا مجمل خاکہ: ذیل میں اسلامی نظام زکوۃ کا خاکہ ملا پیش کیا جاتا ہے تا قارئین کے ذہن مجملاً میں بوقت مطالعہ اس کتاب کی صورت و شکل مستحضر رہے۔اس خاکے سے اس کی حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ آیا وہ احکام ابتدائی حالات معاشرہ تمدن کے تقاضوں کی ایجاد ہے یا خالق بشر کی مشعل راہنمائی۔قابل زکوۃ اموال کی اقسام حسب ذیل ہیں:۔اول : بے کار دولت جو کسی شکل میں بطور اندوختہ ہو جو نقد کی صورت میں یا سونا چاندی یا ہمارے بنکوں کے مروجہ نوٹوں وغیرہ کی صورت۔اس کا نصاب سکہ نقری کے اعتبار سے پانچ اوقیہ یا ساڑھے باون تولہ ؛ اکیس اونس چاندی اور بلحاظ کرنسی اتنی چاندی کی رائج الوقت قیمت کے مطابق اس قدر یا اس سے زیادہ جمع شدہ دولت پر اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ عائد ہوگی۔سونے کی صورت میں اس کا قیاس چاندی کے معیار پر ہوگا۔یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے جس قد ر سونا تبادلہ میں حاصل ہو، وہ سونے کا نصاب متصور ہوگا۔نرخ چونکہ بدلتا رہتا ہے، اس لئے حساب میں بھی کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔اس لئے اڑھائی فیصدی کی ہی نسبت سے زکوۃ نکالی جائے گی۔ایسی بے کار دولت سال گزرنے پر اور قرضہ جات منہا کرنے کے بعد قابل زکوۃ ہوگی۔دوم: زرعی پیداوار یعنی اجناس کا نصاب بلحاظ وزن پانچ وسق ہے جو حجازی تول کی رو سے ۲۶ من دس سیر اور عراقی تول کی رو سے ۲۱ امن کے قریب ہوتا ہے۔زرعی پیداوار میں سال گزرنے کی شرط نہیں۔بلکہ ہر فصل پر اگر پیداوار مذکورہ بالا مقدار میں یا اس سے زیادہ ہو تو زکوۃ بلحاظ نوعیت آبپاشی اراضی مختلف ہوگی۔یعنی پیداوار کا دسواں حصہ بصورت بارانی، بیسواں حصہ بصورت چاہی یا نہری وغیرہ۔(دیکھئے باب نمبر ۵۸،۵۵) سوم : معد نیات یا اموال دفینہ کا نصاب اخراجات کان کنی وغیرہ منہا کرنے کے بعد حاصل شدہ مال پر خمس یعنی پانچواں حصہ زکوۃ عائد ہوگی۔قطع نظر اس سے کہ وہ افراد کی ملکیت ہوں یا حکومت کی۔دونوں صورتوں میں ایسے اموال قابل زکوۃ ہوں گے اور ان کی آمدنی آٹھ مصارف کے لئے مخصوص ہوگی۔بعض فقہاء نے جواہر وسوائل ( یعنی معدنی تیل وغیرہ) کو بھی معدنیات کی جنس میں شمار کیا ہے۔(دیکھئے باب نمبر ۶۶،۶۵) چہارم: کاروباری سرمایہ جو بصورت تجارت یا صنعت و حرفت سال بھر لگا ر ہے۔اس کی زکوۃ بھی رائج الوقت سکہ کی رو سے اڑھائی فیصدی ہوگی۔تجارتی یا صنعتی کاروبار کا حساب کرتے وقت دکانوں اور کارخانوں کی عمارتیں، مشینری، آلات اور متعلقہ ساز و سامان وغیرہ محسوب نہ ہوں گے۔پنجم : مواشی اگر کسب معاش کا ذریعہ ہوں تو ہر ایک جنس کا نصاب الگ الگ معین ہے۔مثلاً پانچ سے نو اونٹ تک ایک بکری تفصیل کے لئے ملاحظہ ہوں ابواب ۳۶ تا ۴۳۔بطور قاعد وکلیہ وہ اشیاء جو انسان کی حاجات ضرور یہ باذاتی استعمال کی ہیں ، مثلا ر ہائشی مکان، اثاث البيت ولباس، خانگی ضرورت کے لئے مال و مواشی اور آلات صنعت وزراعت وغیرہ اشیاء زکوۃ سے متمنی ہیں۔علی ہذا القیاس وہ زیور بھی جوزیر استعمال ہیں۔