صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 193
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۹۳ ٢٥ - كتاب الحج (1) احرام، إهلال و تلبیہ یعنی احرام باندھتے وقت بلند آواز حج یا عمرہ کا نام لے کر لبیک اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ۔ یہ تلبیه وتسبیح و تحمید و تکبیر بحالت احرام اثنائے سفر میں بیت اللہ پہنچنے تک جاری رہتا ہے اور اس کے بعد مندرجہ ذیل اعمال عبادت حج کا حصہ شمار ہوتے ہیں۔ (۲) طواف بیت اللہ سعی بین الصفا والمروه ، وقوف عرفات، قیام مزدلفہ، قیام مٹی ، رمی جمرات اور قربانی۔ ہر ایک کی تفصیل علیحدہ ابواب میں دیکھئے۔ بَاب ۱۷ : غَسْلُ الْخَلُوقِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِّنَ القِيَابِ کپڑوں سے خوشبو کو تین بار دھونا ١٥٣٦ : قَالَ أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ۱۵۳۶: ابو عاصم (ضحاک بن مخلد ) نے کہا: ابن جریج ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّ صَفْوَانَ نے ہمیں بتایا، (کہا: ) عطاء ( بن ابی رباح ) نے مجھے ابْنَ يَعْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ يَعْلَى قَالَ لِعُمَرَ خبر دی که صفوان بن یعلی نے بتایا۔ حضرت یعلی نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرِنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ يُوحَى إِلَيْهِ قَالَ کو ایسے وقت میں مجھے دکھا ئیں جب آپ کو وحی ہو فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رہی ہو۔ حضرت یعلی کہتے تھے: ایک بار نبی صلی اللہ بِالْجِعْرَانَةِ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِّنْ أَصْحَابِهِ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ صحابہ میں سے ایک جماعت بھی تھی۔ اس اثناء میں تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَهُوَ آپ کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے کہا: یا رسول الله ! مُتَضَمِّخٌ بِطِيْبٍ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّی آپ کا اس شخص کی نسبت کیا خیال ہے جس نے عمرہ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً فَجَاءَهُ الْوَحْيُ کا احرام باندھا اور خوشبو سے لتھڑا ہوا ہو؟ نبی صلی اللہ فَأَشَارَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى يَعْلَی علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے۔ اتنے میں آپ کو وحی فَجَاءَ يَعْلَى وَعَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّی ہوئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت یعلی کو اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ اشارہ کیا اور حضرت یعلی آ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ