صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 192 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 192

صحيح البخاری جلد۳ ۱۹۲ ٢٥-كتاب الحج ١٥٣٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي :۱۵۳۵ محمد بن ابی بکر ( مقدمی ) نے ہم سے بیان بَكْرٍ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا کیا ، ( کہا:) فضیل بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا، مُوْسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ ) کہا : ( موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيْهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَن سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ ان کے باپ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رُبيَ ( حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے هُوَ فِي مُعَرَّسٍ بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔جب آپ ذوالحلیفہ کی وادی کے نشیب میں رات کو الْوَادِي قِيْلَ لَهُ إِنَّكَ بِبَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ خیمہ زن تھے۔آپ نے خواب دیکھا۔آپ سے وَقَدْ أَنَاخَ بِنَا سَالِمٌ يَتَوَفَّى بِالْمُنَاخِ کہا گیا کہ تم ایک مبارک میدان میں ہو۔( موسیٰ بن : الَّذِي كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يُنِيحُ يَتَحَرَّى عقبہ کہتے تھے ) اور سالم نے ہم کو بھی وہاں ٹھہرایا۔وہ مُعَرَّسَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اس مقام کی تلاش کرتے تھے ؛ جہاں حضرت عبداللہ وَسَلَّمَ وَهُوَ أَسْفَلُ مِنَ الْمَسْجِدِ الَّذِي اونٹ بٹھایا کرتے تھے۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بِبَطْنِ الْوَادِي بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الطَّرِيْقِ کی فرودگاہ کی جستجو کرتے تھے اور وہ مقام اس مسجد کے نیچے ہے، جو وادی کے نشیب میں ہے۔اس کے اور وَسَطٌ مِنْ ذَلِكَ۔اطرافه ٤٨٣، ٢٣٣٦، ٧٣٤٥۔فریح: راستہ کے درمیان واقع ہے۔الْعَقِيقُ وَادٍ مُبَارَک تحقیق مدینہ کے قریب وادی کا نام ہے۔زمانہ جاہلیت میں شعراء عرب 66 وغیرہ کا اس وادی میں اجتماع ہوتا اور میلے لگتے تھے۔خصوصاً موسم سرماو بہار میں۔عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ : حرف ” فی“ بمعنی واو عاطفہ اور یہ بمعنی ”مع زبان عربی میں اکثر استعمال ہوتا ہے۔بَطن الْوَادِی روایت نمبر ۱۵۳۵ میں وادی عقیق کی جگہ بطن وادی کا ذکر ہے۔پہلی روایت میں اس وادی کا نام مذکور ہے۔دونوں روایتیں ایک دوسرے کے مضمون کی تائید و تکمیل کرتی ہیں۔وَسَطٌ مِنْ ذَلِكَ : وسط کے معنے متوسط یعنی درمیان میں واقع ہے۔مقامات احرام کا ذکر کرنے کے بعد امام بخاری اب مناسک حج کا ذکر یکے بعد دیگرے ترتیب سے کریں گے۔مناسک حج خلاصہ یہ ہیں :-