صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 191
صحيح البخاری جلد۳ 191 ٢٥ - كتاب الحج (فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۴۹۳) آیا عنوان باب بطور وقفہ کے کبھی چھوڑ دیا گیا ہو، میرے علم میں اس کی مثالیں نہیں۔وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ : ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ اور حج کے لئے مدینہ منورہ سے نکلتے تھے۔اس لئے اہل مدینہ کے میقات ذوالحلیفہ سے متعلق جو باتیں امام موصوف کو مستند طریق سے معلوم ہوئی ہیں؛ وہ تین ابواب ( نمبر ۱۴ ۱۵ ۱۶) میں نقل کر دی ہیں۔مناسک حج سے ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ، گو حضرت ابن عمرؓ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شوق بیکراں میں ذوالحلیفہ میں ہی نماز پڑھتے اور اس راستے سے آیا جایا کرتے تھے۔جہاں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گزرتے۔( روایت نمبر ۱۵۳۳٬۱۵۳۲) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کی وجہ سے وادی عقیق، میدان ذوالحلیفہ ، طریق معرس اور مسجد الشجر ہ کو برکت اور تاریخی حیثیت حاصل ہے، جیسا کہ مقامات وادی مکہ کو حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی وجہ سے برکت دی گئی۔اللَّهُمَّ صَلِّ وَبَارِک عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، اور ہمیں آپ کی اتباع کا وہ شوق عطا فرمائے جو صحابہ کرام کو تھا۔آمین بَاب ١٦ : قَوْلُ النَّبِيِّ ﷺ الْعَقِيْقُ وَادٍ مُّبَارَكٌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ عقیق مبارک نالہ ہے ١٥٣٤: حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا ۱۵۳۴: (ابوبکر عبداللہ ) حمیدی نے ہم سے بیان الْوَلِيدُ وَبِشْرُ بْنُ بَكْرِ التَيْسِيُّ قَالا کیا ، کہا: ) ولید اور بشر بن بکر تنیسی نے ہم سے حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ بیان کیا۔ان دونوں نے کہا: اوزاعی نے ہمیں بتایا، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسِ کہا : حي ( بن ابی کثیر ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: عکرمہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُوْلُ إِنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ نے مجھے بتایا۔انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُوْلُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ سے سنا۔حضرت عمرؓ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَادِي الْعَقِيْقِ سے وادی عقیق میں سنا۔آپ نے فرمایا : آج رات يَقُوْلُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِّنْ رَّبِّي فَقَالَ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے صَلَّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ والا آیا اور اس نے کہا: اس مبارک وادی میں نماز پڑھو اور کہو کہ حج مع عمرہ کیا کرو۔عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ۔اطرافه: ۲۳۳۷، ۷۳۶۳