صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 190
صحيح البخاری جلد۳ 190 ٢٥ - كتاب الحج عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ نافع نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ کی کہ انہوں نے کہا: ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بِالْبَطْحَاءِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا نے ذوالحلیفہ کے میدان میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور الله وہاں نماز پڑھی اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہا وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ عَنْهُمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ۔اطرافه ٤٨٤، ۱۵۳۳، ۱۷۹۹۔بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔بَاب ١٥ : خُرُوجُ النَّبِيَ الله عَلَى طَرِيْقِ الشَّجَرَةِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا درخت والے راستہ سے گزر کر جانا ١٥٣٣: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ :۱۵۳۳ ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا، الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ ) کہا : ( انس بن عیاض نے ہم سے بیان کیا۔انہوں عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نے عبید اللہ (عمری) سے، عبید اللہ نے نافع سے، عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ مِنْ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم براستہ شجرہ طَريقِ الشَّجَرَةِ وَيَدْخُلُ مِنْ طَرِيْقِ مدینہ سے نکلا کرتے تھے اور براستہ معرس مدینہ میں الْمُعَرَّسِ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ آیا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ کو جانے کے لئے نکلتے تو آپ درخت والی مسجد میں يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ الشَّجَرَةِ وَإِذَا رَجَعَ نماز پڑھا کرتے تھے اور جب لوٹ کر آتے تو صَلَّى بِذِي الْحُلَيْفَةِ بِبَطْنِ الْوَادِي ذو الحلیفہ میں نالہ کے نشیب میں نماز پڑھتے اور وہیں وَبَاتَ حَتَّى يُصْبِحَ۔اطرافه ٤٨٤، ۱۵۳۲، ۱۷۹۹۔تشریح: صبح تک رات بسر کرتے۔بعض نسخوں میں باب نمبر ۱۴ کا کوئی عنوان نہیں اور شارحین کا خیال ہے کہ عنوان یہ ظاہر کرنے کے لئے چھوڑا گیا کہ میقات احرام کا مضمون ختم ہے اور نیا مضمون شروع ہوتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۴۶)