صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 189
صحيح البخاري - جلد ۳ ۱۸۹ ٢٥- كتاب الحج غیر مستند ہیں۔امام مالک، امام شافعی، امام رافعی اور مام نووی رحمہم اللہ نے بھی یہی رائے قائم کی ہے۔(فتح الباری جز ہو صفحه ۴۹۲۴۹۱) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۱۴۵) طاؤس، ابن سیرین اور جابر بن زید نے مذکورہ بالا حدیث سے استدلال کیا ہے کہ اہل عراق کے لئے کوئی میقات نہیں ؛ جیسا کہ دوسرے ممالک کے لئے بھی نہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۴۵) یعنی ان جگہوں سے آنے والے مقررہ شدہ میقات سے گزرتے ہوئے کسی ایسے مقام سے جو کسی میقات کے مقابل واقع ہو؛ احرام باندھ سکتے ہیں۔حضرت عمر نے اپنے قیاس سے جو فتویٰ دیا ہے، دوسرے ممالک کے لئے بھی قابل عمل ہے۔یہ اُن کا قابل قدراجتہاد ہے۔لَمَّا فُتِحَ هَذَانِ الْمِصْرَانِ : ان دو شہروں سے مراد کوفہ اور بصرہ ہیں۔خلاصہ یہ کہ پانچ مقامات سے احرام حج یا عمرہ باندھا جا سکتا ہے۔(۱) جُحفہ: یہ ایک گاؤں کا نام ہے جو مکہ ومدینہ کے درمیان تھا۔اب غیر آباد کھنڈرات ہیں اور اس کے قریب رابغ کی بستی ہے جو اہل مصر و شام ، مغرب اور اس کے ماوراء اہل اندلس ( سپین ) اور روم وغیرہ کے باشندگان کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ہے۔(۲) ذات عرق : یہ گاؤں ہے جو مکہ سے دو منزل پر ہے۔عرق نامی پہاڑی کی وجہ سے اس کا یہ نام ہے۔جو وادی عقیق کے کنارے پر واقع ہے۔یہ جگہ اہل عراق اور مشرقی ممالک کے لئے میقات ہے۔(۳) ذو الحلیفہ: مدینہ سے پانچ میل اور مکہ مکرمہ سے نو منزل یعنی نو روز کا سفر۔یہ جگہ اہل مدینہ کی میقات ہے۔(۴) یلملم: تہامہ کی پہاڑیوں میں سے ایک پہاڑی کا نام ہے۔مکہ مکرمہ سے دو منزل دور ہے۔یہ اہل یمن واہل ہند کی میقات ہے۔(۵) قرن: یہ پہاڑی کا نام ہے؛ جو میدان عرفات میں واقع ہے۔مکہ سے دو منزل دور۔اسے قرن المنازل بھی کہتے ہیں۔یہ اہل نجد کی میقات ہے۔مذکورہ بالا جگہوں یا ان کے محاذ پر کسی جگہ سے گزرتے وقت احرام باندھ سکتے ہیں۔ہوائی جہاز کے ذریعہ سے سفر کرنے والے جہاں سے سوار ہوں ؛ حج یا عمرہ کی نیت سے احرام باندھیں ؛ بہتر ہوگا۔اگر وہ عمرہ کی نیت سے احرام باندھ لیں اور مکہ مکرمہ میں پہنچ کر عمرہ کریں اور اس سے فارغ ہو کر احرام کھول ڈالیں ، پھر وہاں میقات مکہ سے حج کا احرام باندھیں تو یہ صورت افراد بھی جائز ہے۔طیارہ یا بحری جہاز پر سفر کرنے والوں کے لئے منتظمین کی طرف سے میقات یا اُس کے محاذ کا علم دیا جاتا ہے۔بَاب ١٤: {الصَّلَاةُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ } { ذوالحلیفہ میں نماز پڑھنا * } ١٥٣٢: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۵۳۲: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَّافِعِ عَنْ ) کہا: ( مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، کا عنوان باب کے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں (فتح الباری جزء حاشیہ صفحہ۴۹۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔