صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 188 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 188

صحيح البخاري - جلد۳ IAA ٢٥- كتاب الحج لِأَهْلِهِنَّ وَلِكُلّ آتِ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ احرام باندھنے کی جگہیں مقرر کیں۔یہ ان ملکوں کے غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ رہنے والوں کے لئے بھی ہیں اور ہر ایک کے لئے جو كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى اِن میں دوسرے ملک والوں میں سے آئے یعنی جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو اور جو ان مقامات سے أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَّكَّةَ۔ورے رہتے ہوں ؛ وہ جہاں سے چلنے لگیں۔اہل مکہ بھی مکہ سے احرام باندھیں۔اطرافه ١٥٢٤، ١٥٢٦، ١٥٢٩، ١٨٤٥ بَابِ ۱۳ : ذَاتُ عِرْقِ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ اہل عراق کے لئے ذات عرق مقام ہے ١٥٣١: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ :۱۵۳۱ علی بن مسلم نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عبد الله بن نمیر نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) عبید اللہ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے اللهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا فُتِحَ هَذَانِ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب یہ شہر فتح کئے گئے تو لوگ الْمِصْرَانِ أَتَوْا عُمَرَ فَقَالُوْا يَا أَمِيْرَ حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا: الْمُؤْمِنِيْنَ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ امیر المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَهُوَ کے لئے قرن مقرر کیا ہے اور وہ ہمارے راستہ سے جَوْرٌ عَنْ طَرِيْقِنَا وَإِنَّا إِنْ أَرَدْنَا قَرْنًا ایک طرف ہے اور اگر ہم قرن جانا چاہیں تو ہمارے شَقَّ عَلَيْنَا قَالَ فَانْظُرُوا حَذْوَهَا مِنْ لئے مشکل ہوگی۔حضرت عمرؓ نے کہا: تم اپنے راستہ طَرِيْقِكُمْ فَحَدَّ لَهُمْ ذَاتَ عِرْقٍ۔میں اس کے مقابل پر کوئی اور مقام دیکھو۔چنانچہ انہوں نے ان کے لئے ذات عرق مقرر کیا۔تشریح : کی ایک ذَاتُ عِرْقٍ لِأَهْلِ الْعِرَاقِ : باب کی تشریح کے ضمن میں یہ بتایا جاچکا ہے کہ صحیح مسلم کے روایت میں ہے کہ عراق والوں کے لئے میقات ذات عرق کا مقام خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا تھا۔نسائی وغیرہ نے بھی اس مفہوم کی بعض روایتیں نقل کی ہیں۔مگر یہ سب روایات امام بخاری کے نزدیک (مسلم، کتاب الحج، باب مواقيت الحج والعمرة )) (نسائی، کتاب الحج، باب ميقات أهل العراق)