صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 187
صحيح البخاری جلد ٣ IAZ ٢٥ - كتاب الحج وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ يَلَمْلَمَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا فَهُنَّ لَهُنَّ اور اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل یمن کے لئے وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ يلملم اور اہل نجد کے لئے قرآن مقرر کئے۔یہ ان ملکوں كَانَ يُرِيْدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ کے لئے بھی ہیں اور ان لوگوں کے لئے بھی ، جو ان دُوْنَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ حَتَّى إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ میں باہر سے آئیں۔یعنی وہ جو حج اور عمرہ کا ارادہ يُهِلُوْنَ مِنْهَا۔اطرافه ١٥٢٤، ١٥٢٦، ١٥٣٠، ١٨٤٥ رکھتے ہوں اور وہ جو ان سے ورے رہتے ہوں وہ اپنے گھر سے ہی احرام باندھیں۔یہاں تک کہ اہل مکہ بھی مکہ سے ہی احرام باندھیں۔مُهَلَّ مَنْ كَانَ دُونَ الْمَوَاقِيَتِ: فقہاء نے جہاں اس امر میں اتفاق کیا ہے کہ میقات اور تشریح: مکہ مکرمہ کے درمیان رہنے والے اپنے اپنے ٹھکانوں سے ہی احرام باندھیں، وہاں اس بارے میں اجازت اور عدم اجازت، افضل اور غیر افضل کا سوال اُٹھا کر دو گروہ ہو گئے ہیں۔ایک فریق یعنی امام مالک وامام احمد بن حنبل کا خیال ہے کہ چونکہ یہ اجازت ہے، اس لئے افضل یہی ہے کہ میقات میں آ کر احرام باندھے اور دوسرے فریق یعنی امام شافعی، ابوحنیفہ اور سفیان ثوری و غیر ہم نے کہا ہے کہ اجازت سے فائدہ اُٹھا نا ہی افضل ہے۔بداية المجتهد، كتاب الحج ، القول في شروط الإحرام) بَابِ ۱۲ : مُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ اہل یمن کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ١٥٣٠ : حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ۱۵۳۰: معلی بن اسد نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَاوُس وہیب بن خالد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد اللہ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله بن طاؤس سے، عبد اللہ نے اپنے باپ سے، ان کے عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد الْمَنَازِلِ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ کے لئے قرن المنازل اور اہل یمن کے لیے یلملم