صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 4 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 4

صحيح البخاری جلد ۳ ✓ ٢٤ - كتاب الزكاة یعنی تمدنی ضرورتیں غیر محدود ہیں جنہیں زکوۃ پورا نہیں کر سکتی۔اس کے لئے وسیع انتظام لازمی ہے۔اس قسم کی غیر معمولی ضرورتوں کا فیصلہ امام وقت اور اولی الامر کی مرضی اور رائے پر چھوڑا گیا ہے۔اجتہاد کا دروازہ اسلام میں ہمیشہ کے لئے کھلا ہے جو زمانی اور مکانی مشکلات حل کرنے کے لئے بطور کلید ہے۔آج فتنہ دجال اور فتنہ یا جوج و ماجوج کی وجہ سے عالم اسلامی کو حالات حاضرہ کی شراکت کا تقاضا : زندگی و موت کا جو خطرہ درپیش ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور اس فتنہ کے دفاع میں امت اسلامیہ پر ایک بہت بڑی مالی قربانی کا فرض قائم ہوتا ہے۔جس کا تعلق اسلام کے دوسرے قانون سے ہے جو ہم سے نفس نفیس کی انتہائی قربانی کا تقاضا کرتا ہے اور جیسا کہ باب نمبر ۴۹ کتاب الزکوۃ کی تشریح میں وضاحت کی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کے مفہوم میں غایت درجہ وسعت ہے اور اس کا تعلق جہاد یعنی دفاع سے ہے، ملت و ملک اور تبلیغ و حفاظت دین سے ہے۔اس لئے اگر ز کوۃ کی آمد سے یہ اہم دفاعی اور حفاظتی غرض پوری نہ ہو سکے تو لازمی طور پر مطلوبہ اخراجات کے لئے علاوہ زکوۃ کے صدقات کی غیر معمولی صورتیں اختیار کرنی پڑیں گی۔ان حالات میں تقاضائے مصلحت کے قطعا خلاف ہوگا کہ سرکاری ٹیکس جو محض دنیوی اغراض کے لئے ہیں زکوۃ وصدقات کی حد میں شمار ہونے لگیں۔بلکہ ایسا کرنامنشائے شریعت کے خلاف ہے۔سبیل اللہ اور حدود اللہ کی حفاظت کا فکر رکھنے والا اور رضائے الہی کا پیاسا انسان تو نہ صرف یہ کہ اپنے محاسبہ اعمال کی میزان میں پورا اترتا ہے بلکہ اس سے بڑھ کر قربانی کرتا ہے۔(اس تعلق میں دیکھئے کتاب الزکوۃ باب نمبر ۱۸ ۲۱ ۲۲، ۲۷) اس استثنائی قانون اور عام قانون زکوۃ وصدقات میں کوئی تناقض نہیں۔ایک کا تعلق غیر معمولی حالات سے ہے اور دوسرے کا معمولی سے۔اسلامی نظام زکوۃ وصدقات کے بارہ عیسائی مستشرقین کا ایک اعتراض اور اس کا جواب میں مذکورہ بلا وضاحت کے بعد بعض عیسائی مستشرقین کے اس لچر و پوچ اعتراض کا بودہ پن خود بخودنمایاں ہو جاتا ہے کہ اسلام نے زکوۃ کا جو حکم دیا ہے وہ اپنی وضع و شکل میں تمدن بشری کے ابتدائی دور سے مخصوص ہے جبکہ انسان زراعت اور مواشی پر گزارہ کیا کرتا تھا اور یہ زکوۃ وصدقہ کا اسلامی طریق غیر ترقی یافتہ طبقہ معاشرہ کے زیادہ مناسب حال ہے؛ بہ نسبت اس کے کہ وہ آج کے ترقی یافتہ نظاموں کی گونا گوں ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو۔اسلامی قانون تحصیل اموال و انفاق میں جو کچک اور وسعت ہے، اس کا دامن بلحاظ مصادر و موارد و تحصیل اور بلحاظ مواقع صرف و انفاق دینی اور دنیاوی ہر قسم کی ضرورتوں پر حاوی وممتد ہے۔اسلامی حکومتیں مشرق و مغرب میں پھیلیں اور جہاں جہاں وہ قائم ہوئیں، ان کے زیر سایہ رعایا کی تنگدستی خوشحالی سے تبدیل ہو گئی۔یہاں تک کہ جیسا کہا گیا تھا۔صدقہ قبول کرنے والا ان میں باقی نہ رہا۔مگر اس نظام سے باہر مختلف ممالک میں جو حالت فقر و فاقہ ، اخلاقی تنزل اور زبوں حالی ہے وہ محتاج بیان نہیں اور جس نامرادی اور خستہ حالی کی وہ عکاسی کرتی ہے وہ ظاہر وباہر ہے۔(اس تعلق میں دیکھئے روایات ۱۴۱۶،۱۴۱۴،۱۴۱۳،۱۴۱۲)