صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 182 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 182

صحيح البخاری جلد ۳ IAF ٢٥-كتاب الحج اس کی تائید آنحضرت ﷺ کے ارشاد اقدُرُوالہ سے بھی ہوتی ہے۔آپ نے حضرت نواس بن سمعان کے دریافت کرنے پر اجازت دی کہ اوقات نماز کے بارے میں مشکل ہو تو اندازہ کر لیا کرو۔(مسلم، کتاب الفتن، باب ذكر الدجال) یہی سہولت مواقیت الحج اور اوقات سحر وافطار کے بارے میں بھی ہے۔اسلامی تعلیم تکلفات سے خالی ہے اور حد اعتدال اور عین فطرت پر واقع ہے۔اس بارہ میں دیکھئے کتاب مواقيت الصلاة تشریح ابواب نمبر ۱ تا ۳۹۔بَاب ٦ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: اور تم زادراہ لیا کرو، کیونکہ بہتر زادِ راہ وہی ہے جس میں بچاؤ کا سامان ہو (البقرة: ۱۹۸) ١٥٢٣: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ :۱۵۲۳ حي بن بشر نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا :) حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ عَمْرِو شابه (بن) سوار) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ورقاء ابْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاس ( بن عمر) سے، ورقاء نے عمرو بن دینار سے، عمرو نے رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما يَحُجُوْنَ وَلَا يَتَزَوَّدُوْنَ وَيَقُوْلُوْنَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا کہ اہل یمن حج کیا نَحْنُ الْمُتَوَكَّلُوْنَ فَإِذَا قَدِمُوا مَكَّةَ کرتے تھے اور وہ زادراہ نہیں لیتے تھے اور کہتے تھے: سَأَلُوا النَّاسَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: ہم تو متوکل ہیں۔جب مکے میں پہنچتے تو لوگوں سے وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى (البقرة: ۱۹۸) رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا۔تشریح: مانگتے۔اللہ تعالیٰ نے وحی کی اور تم زادراہ لے لیا کرو، کیونکہ بہتر زاد راہ وہی ہے جس میں بچاؤ کا سامان ہو۔یہ حدیث ابن عیینہ نے عمرو سے، عمرو نے عکرمہ سے مرسل روایت کی ہے۔وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقُواى اس باب کا مضمون واضح ہے۔شریعت اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ کھانے پینے وغیرہ کا سامان نہ ہو اور انسان حج کے لئے متوکل بن کر نکلے اور پھر اس کا تو کل راستے ہی میں گم ہو جائے اور وہ در بدر بھیک مانگنا شروع کر دے۔بھیک کی مذمت اور اس سے ممانعت کے بارے میں اسلام کی تعلیم واضح ہے۔(دیکھئے کتاب الزکاۃ باب نمبر ۵۰ تا ۵۳) حج کے لئے پہلی اور ضروری شرط یہ ہے: مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِیلا کہ آمد ورفت کے لئے سامانِ سفر میسر ہو۔ورنہ قرآن مجید کے اس صریح حکم کی نافرمانی ہوگی اور بے زاد راہ حج کرنے والے جو تو کل کے مقام سے گر کر نان شبینہ کے لئے غیر اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں۔حاجی نہیں بلکہ معصیت کے مرتکب ہوں گے۔