صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 181
صحيح البخاری جلد۳ IAI ٢٥ - كتاب الحج نزدیک ضروری ہے۔امام موصوف " بھی جمہور کے مذہب کی تائید میں ہیں۔زید بن جبیر ” جنہوں نے حضرت ابن عمرؓ سے دریافت کیا جو فقہائے کوفہ میں سے ہیں؛ جامع صحیح بخاری میں ان کی صرف یہی ایک روایت ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۴۸۳) ان کے سوال کا جواب جو حضرت ابن عمر نے دیا ہے قابل غور ہے۔سائل نے میقات اہل عراق کے بارے میں دریافت کیا تھا۔حضرت ابن عمرؓ نے ان تین میقاتوں کا ذکر کیا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجدیوں، مدینیوں اور شامیوں کے لئے مقرر فرمائے ہیں۔عراقیوں کے لئے خاموشی اختیار کی ہے۔ان کے لئے ذات عرق یا عقیق کا مقام ہے جسے روایت نمبر ۱۵۳۱ کے مطابق حضرت عمر اور مسلم کی روایت کے مطابق خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے۔(مسلم، کتاب الحج، باب مواقيت الحج والعمرة) مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابن عمر کو اس کا علم نہیں تھا۔اس لئے انہوں نے صرف انہی مواقیت کا نام لیا ہے جن کے متعلق انہیں علم تھا۔(اس تعلق میں روایت نمبر ۱۵۲۵ا بھی دیکھئے) روایت ہذا میں الفاظ فَرَضَهَا رَسُولُ اللهِ علل و قابل توجہ ہیں۔صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقرر کردہ حدود سے پس و پیش ہونا گناہ سمجھتے تھے۔حضرت ابن عمر نے سائل کو یہ جواب نہ دیا کہ جہاں سے چاہو احرام باندھو؛ بلکہ اپنے علم کے مطابق مقررہ میقات اُسے بتائے اور جس کے متعلق ان کو علم نہ تھا؛ خاموشی اختیار کی۔اس تعلق میں اصولی طور پر یہ امر یادر ہے کہ دین اسلام ایک ضابطہ کا دین ہے جو اصول و قواعد پر مبنی ہے اور اس نے استثنائی حالات میں افراد کے لئے (الدِّينُ يُسر کے تحت سہولت دی ہے۔عام حالات میں نماز کے لئے بھی اوقات مقرر کئے گئے ہیں۔مگر جہاں رات و دن یا اوقات نات کا اندازہ ممکن نہیں وہاں سہولت دی ہے۔فرماتا ہے: وَاللهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ - عَلِمَ اَنْ لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ فَاقْرَءُ وُا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ عَلِمَ أَنْ سَيَكُونَ مِنْكُمْ مَرْضَى " وَاخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِنْ فَضْلِ اللهِ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ ص فَاقْرَءُ وْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ وَأَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَاقْرِضُوا اللهَ قَرْضًا حَسَنًا (المزمل (۲۱) یعنی اور اللہ رات اور دن کو چھوٹا بڑا کرتا رہتا ہے۔خدا ( تعالی ) جانتا ہے کہ تم پوری طرح نماز کے وقت کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔پس اس نے تم پر رحم کیا ہے۔پس چاہیے کہ قرآن (کریم) میں سے جتنا میسر ہو تم ( رات کے وقت ) پڑھ لیا کرو۔اللہ تعالیٰ ) جانتا ہے کہ تم میں سے کچھ بیار بھی ہوں گے اور کچھ تجارت کی غرض سے سفر پر بھی نکلیں گے اور کچھ لوگ ( اللہ تعالیٰ) کے راستہ میں جہاد کرنے بھی نکلیں گے۔پس (ہم بغیر حد بندی کے کہتے ہیں کہ ) قرآن (کریم) میں سے جتنا میسر آئے پڑھ لیا کرو اور نمازیں قائم کیا کرو اور زکوۃ دیا کرو اور اللہ تعالیٰ) کو خوش کرنے کے لئے اپنے مال کا اچھا ٹکڑا کاٹ کر الگ کر دیا کرو۔آیت يُقَدِرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ اور عَلِمَ اَنْ لَّن تُحْصُوهُ سے مراد یہ ہے کہ رات و دن کہیں چھوٹے اور کہیں بڑے ہیں اور اوقات مقررہ ہر حالت میں ملحوظ رکھنا انسان کے لئے ناممکن ہے۔آیت قم اللَّيْلَ (المزمل:٣) اور فَاقْرَءُ وْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (المزمل:(۲۱) سے مراد مفسرین کے نزدیک نماز کی ادائیگی ہے۔(الكشاف، تفسير سورة المزمل، آیت ۲ ، ۲۰) (روح المعانى تفسير سورة المزمل، آیت ۲ ،۲۰)