صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 180
صحيح البخاری جلد۳ -١٣ ۱۸۰ ٢٥ - كتاب الحج رمی الجمار : یعنی تین جمرات ( ڈھیریوں) پر کنکریاں پھینکنا اور ان تین دنوں میں بھی عبادت، ذکر الہی اور دعائیں کرنا۔اس بارہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے: وَاذْكُرُوا اللهَ فِی اَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ (البقرۃ: ۲۰۴) چند گنتی کے دنوں میں ذکر الہی کرو۔۱۴- قیام مٹی اور رمی الجمار کے بعد تیسرے دن یعنی تیرھویں ذوالحج کو بیت اللہ کا طواف کرنا۔مذکورہ بالا مناسک حج ادا کرنے کے بعد چاہے مکہ مکرمہ میں رہے یا وہاں سے لوٹ آئے۔اس آخری طواف کو طواف الوداع کہتے ہیں۔یہ مجمل صورت و شکل ہے۔حج کی تفصیل مستند روایات کی بنا پر آئندہ ابواب میں آئے گی۔ان مناسک حج کی غرض و غایت کیا ہے۔اس کے لئے دیکھئے تشریح باب ۷۹،۶۳٬۵۶۔مذکورہ بالا مناسک میں سے بعض تو ارکان حج ہیں۔مثلاً احرام و تلبیہ طواف سعی، وقوف عرفات ، طواف افاضہ اور بعض واجبات حج۔° بابه : فَرْضُ مَوَاقِيْتِ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ حج اور عمرہ کے لئے میقات کا تعین ١٥٢٢ : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيْلَ ۱۵۲۲: مالك بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا، کہا : ) حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ زہیر نے ہم سے بیان کیا، کہا: زید بن جبیر نے مجھ سے أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بیان کیا کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے فِي مَنْزِلِهِ وَلَهُ فُسْطَاطٌ وَسُرَادِقٌ پاس ان کی فرودگاہ میں آئے اور ان کا بہت بڑا خیمہ فَسَأَلْتُهُ مِنْ أَيْنَ يَجُوزُ أَنْ أَعْتَمِرَ قَالَ تھا اور قناتیں تھیں۔(انہوں نے کہا:) میں نے ان فَرَضَهَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے پوچھا : مجھے کہاں سے اجازت ہے کہ میں عمرہ کا احرام باندھوں ؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَا وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ علیہ وسلم نے نجد والوں کے لئے قرن المنازل اور ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ۔مدینہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لئے جحفہ احرام باندھنے کی جگہیں مقرر کی ہیں۔تشریح: اطرافه ۱۳۳ ، ١٥٢٥، ١٥٢٧، ١٥٢٨۔مَوَاقِيْتُ الْحَجَ وَالْعُمْرَةِ: مواقيت جمع ہے میقات کی جس کے معنے ہیں مقررہ جگہ یا مقررہ وقت اور اصطلاح شریعت میں وہ مقام ہے جہاں سے حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔بابے سے۱۳ تک ہر ملک کے میقات کا ذکر مفصل آئے گا۔یہ باب ایک اختلاف کو مد نظر رکھ کر قائم کیا گیا ہے۔بعض فقہاء یعنی عطاء، ابراہیم نخعی اور حسن بصری میقات سے احرام باندھنا ضروری نہیں سمجھتے۔(عمدۃ القاری جز ء۹ صفحہ۱۳۸) لیکن جمہور کے