صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 179
صحيح البخاري - جلد۳ 129 ٢٥ - كتاب الحج ہے جہاں سے حج کی نیت سے احرام باندھا جاتا ہے۔میقات میں سب سے پہلے احرام کی نیت کر کے غسل کرنا اور بدن اچھی طرح صاف کرنا مسنون ہے۔میقات ( زمانی یا مکانی ) میں احرام باندھنا، رمی الجمار اور حلق (سرمنڈھوانا ) اور بعض سنن مثلاً طواف قدوم ، افراد (یعنی پہلے حج الگ پھر عمرہ الگ کرنا ) طواف کی دور کعتیں ، قیام و وقوف مزدلفہ دنئی اور طواف وداع شامل ہیں۔حج اور عمرہ میں جو چیزیں ممنوع ہیں: سلے ہوئے کپڑے مرد کے لئے ، نقاب، خوشبو، مباشرت اور مقدمات ( بوسه، ملامست ، نکاح وغیرہ) اور شکار کرنا۔احرام وہ مخصوص لباس ہے جو حاجی پہنتا ہے۔دو سفید بن سلی چادر میں؛ ایک بطور تہ بند اور دوسری بدن ڈھانپنے کے لئے۔یہ لباس پہن لینے کے بعد بعض باتیں حرام ہو جاتی ہیں؛ اسی لئے ان چادروں کو احرام کہتے ہیں۔حج بھی ایک عبادت ہے جس طرح نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ادھر اُدھر دیکھنا اور باتیں کرنا وغیرہ ممنوع ہے ؛ اسی طرح احرام کے ساتھ بھی بعض پابندیاں حج کی نیت کرنے والے پر عائد ہو جاتی ہیں۔-۴- تہلیل یعنی حج یا عمرہ یا دونوں کی نیت کر کے تلبیہ پکارے۔یعنی بلند آواز سے یہ الفاظ کہے لبیک اللهم لَيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ۔تہلیل کے معنے ہیں : لا الہ الا اللہ کا اقرار بلند آواز سے کرنا۔-0 -4 احرام باندھ کر دو رکعت نفل پڑھنا بھی مسنون ہے۔سفر حج اور ایام حج میں بھی تلبیہ بکثرت دہرانا مسنون ہے۔- طواف بیت اللہ حجر اسود کو بوسہ دے کر یا چھو کر سات دفعہ بیت اللہ کے چکر لگانا اور اس کے بعد حجر اسود اور بیت اللہ کے دروازے کے درمیان کعبہ کا پردہ پکڑ کر جو چاہے دعا کرے اور پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دورکعت نفل پڑھ کر مندرجہ ذیل مناسک حج شروع کرے۔ان کے لئے طہارت مستحب ہے واجب نہیں۔-2 - •|- سعی بين الصفا والمروة صفا و مروہ کے درمیان سات بار دوڑنا۔وقوف عرفات : یعنی عرفات میں ٹھہر کر عبادت و ذکر الہی اور دعائیں کرنا اور ودشریف ان دعاؤں میں شامل ہے۔- مزدلفہ اور منی میں قیام : یہاں بھی عبادت اور ذکر الہی اور دعائیں کرنا۔منی میں دسویں ذواج کو قربانی کرنا اور اس کے بعد حجامت کر کے احرام کھولنا۔اس سے حج کی بعض پابندیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔لیکن ازدواجی تعلقات کی ممانعت بدستور قائم رہتی ہے۔دورانِ قیام منی میں بھی عبادت و ذکر الہی اور دعا ئیں کرنی چاہئیں۔طواف زیارت : جسے طواف رکن یا طواف افاضہ بھی کہتے ہیں۔یہ طواف احرام کھولنے کے بعد قربانی کے دن ہی کیا جاتا ہے اور اہم رکن ہے۔اس کے بعد حج کی پابندیوں سے پوری آزادی ہو جاتی ہے۔۱۲- طواف زیارت کے بعد منٹی کو اسی دن لوٹنا اور وہاں تین دن قیام کرنا۔