صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 178 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 178

صحيح البخاري - جلد۳ IZA ٢٥ - كتاب الحج مقام جلیل سے اللهُ اَكْبَرُ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّیک کے الفاظ سے شروع ہوتی اور مقام منی میں ایک ذبیحہ کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔مناسک حج کی اسی غرض و غایت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خطبہ الہامیہ میں فرماتے ہیں :- وَقَدْ أُشِيْرَ إِلَى هَذَا السِّرِّ الْمَكْتُومِ فِي كَلَامِ رَبَّنَا الْقَيُّوْمِ۔فَقَالَ وَهُوَ أصْدَقُ الصَّادِقِينَ۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔فَانْظُرُ كَيْفَ فَسَّرَ النُّسُكَ بِلَفْظِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ۔وَأَشَارَ بِهِ إِلَى حَقِيقَةِ الْأَضْحَاةِ۔فَفَكَّرُوا فِيهِ يَا ذَوِى الْحَصَاةِ۔وَمَنْ ضَحَّى مَعَ عِلْمٍ حَقِيقَةِ ضَحِيَّتِهِ وَصِدْقِ طَوِيَّتِهِ وَخُلُوصِ نِيَّتِهِ، فَقَدْ ضَحَى بِنَفْسِهِ وَمُهْجَتِهِ وَأَبْنَائِهِ وَحَفَدَتِهِ وَلَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ كَأَجْرٍ إِبْرَاهِيمَ عِندَ رَبِّهِ الْكَرِيمِ۔( ترجمہ ) اور اس پوشیدہ بھید کی طرف خدا تعالیٰ کی کلام میں اشارت کی گئی۔چنانچہ خدا جو صدق الصادقین ہے، اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری عبادت اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اس خدا کے لئے ہے جو پروردگار عالمیان ہے۔پس دیکھ کہ کیونکر نسک کے لفظ کی حیات اور ممات کے لفظ سے تفسیر کی ہے اور اس تفسیر سے قربانی کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔پس اے عقل مندو! اس میں غور کرو اور جس نے اپنی قربانی کی حقیقت کو معلوم کر کے قربانی ادا کی اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ادا کی، پس بہ تحقیق اس نے اپنی جان اور اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں کی قربانی کر دی اور اس کے لئے اجر بزرگ ہے جیسا کہ ابراہیم کے لئے اس کے رب کے نزدیک اجر تھا۔خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۳-۴۴) اس روحانی مقصد کے علاوہ حج کے موقع پر مختلف اقوام عالم کا اجتماع ایک سادہ سفید لباس پہنے ایسا منظر پیش کرتا ہے جو اس عالمگیر اخوت و مساوات کی ترجمانی کرتا ہے جو اسلامی تعلیم کا مدعا ومنشاء ہے۔غرض مناسک حج ایک مقصود اعلیٰ کے لئے بطور علامت ہیں اور اس ابراہیمی قربانی کا نمونہ یاد دلاتی ہے جو بیک وقت خاوند اور بیوی، باپ اور بیٹے کی انتہائی قربانیوں پر شامل تھی۔(دیکھئے تشریح باب ۷۹) آئندہ ابواب کی ترتیب اور حج کی صورت و شکل سمجھنے کے لئے قارئین مندرجہ ذیل مجمل خاکہ ذہن میں رکھیں :- الاشْهرُ الْحُرُم شوال، ذی قعدہ اور ذی الحج تین مہینے ہیں جن میں عرب لوگ ہر قسم کی تعدی اور ظلم نا جائز سمجھتے اور پر امن رہتے تھے۔انہی مہینوں میں سے کسی ایک مہینہ میں حج یا عمرہ کی نیت کی جاسکتی ہے۔نیت بھی حج کا ضروری رکن ہے۔-1 -۲ میقات یہ لفظ ظرف ہے جو ظرف زماں اور ظرف مکاں دونوں پر اطلاق پاتا ہے۔الغرض میقات وہ جگہ