صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 177
صحيح البخاری جلد۳ 122 ٢٥-كتاب الحج حج مبرور یعنی وہ حج جو سراسر طاعت شعاری اور نیکی پرمبنی ہوا اور اس کے ساتھ گناہ کا شائبہ نہ رہے۔مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُتُ وَلَمْ يَفْسُقُ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ( نمبر (۱۵۲) جو اللہ تعالیٰ کے لئے حج کرے اور نہ شہوت کی کوئی بات کرے، نہ نافرمانی کرے تو وہ ایسی حالت میں لوٹے گا جیسے کہ اس کی ماں نے اسے جنا۔یہ حدیث قرآن مجید کی اس آیت کے مطابق ہے: اَلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ، فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَقِّ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْر يَعْلَمُهُ اللهُ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى * وَاتَّقُون يأُولِي الْأَلْبَابِ (البقرة: ١٩٨) یعنی حج کے مہینے معلوم ہیں۔پس جو شخص ان میں حج ( کا ارادہ) پختہ کرلے۔(اسے یادر ہے کہ) حج کے ایام میں نہ تو کوئی شہوت کی بات کرے اور نہ کوئی نافرمانی اور نہ کسی قسم کا جھگڑا اور نیکی کا جو کام بھی تم کرو گے، اللہ ضرور اس کی قدر کرے گا اور ط زاد راہ ساتھ لو۔یقینا بہتر زاد راہ تقویٰ ہے؛ اور اے عقل مندو! مجھ ہی سے ڈرو۔(اس تعلق میں ملاحظہ ہو تشریح باب ۲۶) حج مبرور اس لئے افضل الجہاد قرار دیا گیا ہے کہ اس میں ایک مسلمان کی انتہائی کوشش ہونی چاہیے کہ وہ تمام بدیوں سے کلیۂ اجتناب کرلے۔اس میں اسے اپنے نفس کو مغلوب کرنا پڑتا ہے اور اس طرح وہ اپنے نفس کی قربانی کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔گویا حج آخری عہد ہے اس امر کا کہ وہ آئندہ بھی تمام بدیوں سے مجتنب رہے گا اور کسی قسم کی بھی نافرمانی نہیں کرے گا اور نہ لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات بگاڑے گا۔اپنے نفس سے جہاد نہایت دشوار گزار منزل اور مشکل ترین مرحلہ ہے، جو نفس کی موت ہی کے بعد طے ہوتا ہے۔اس لئے حج کو افضل الجہاد کہا گیا ہے۔حج کا اصل مقصود یہی نفس کی قربانی ہے۔چنانچہ سورہ حج میں مناسک حج کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَنْ يَّنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَانُهَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ۔(الحج: ۳۸) ان قربانیوں کے گوشت اور خون ہرگز اللہ تعالیٰ تک نہیں پہنچتے۔لیکن تمہارا تقوی اللہ تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔گذلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ۔(الحج: ۳۸) اسی طرح اس نے یہ قربانی کے جانور تمہارے تصرف میں کر دئے ہیں۔تا تم جیسا کہ تمہاری راہنمائی کی ہے اللہ کو سب سے بڑا سمجھو ( اور اسے ہر شئے پر مقدم رکھو) اور محسنوں کو بشارت دو۔(محسن کے معنے ہیں نہایت اچھے کام کرنے والے وہ جن کے اعمال میں حسن نمایاں ہو۔اس کے بعد معانفس کی قربانی کے تعلق میں فرماتا ہے: اِنَّ الله ط يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورِه أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌه (الحج: ٣٩ -۴٠) یقینا اللہ تعالیٰ مومنوں سے مدافعت کرے گا۔اللہ ہر خائن اور ناشکر گزار کو پسند نہیں کرتا۔جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے؟ انہیں اجازت ہے کہ وہ اپنے دفاع میں جنگ کریں۔کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ تعالیٰ یقینا ان کی مدد پر بڑی قدرت رکھتا ہے۔اس سیاق کلام سے ظاہر ہے کہ مناسک حج سے متعلق احکام کا مدعا و مقصود نفس کی قربانی ہے اور اس بنیادی غرض و غایت کے پیش نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو بہت بڑا جہاد قرار دیا ہے۔جس کا مقصود احیاء ملتی ہے، جو ماں باپ اور بیٹے کی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے۔الفاظ خَوَّانٍ كَفُورٍ سے اس خیانت اور ناشکر گزاری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جو انسان کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں ظاہر ہوتی ہے۔حج کی ابتداء