صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 176
صحيح البخاري - جلد۳ ثُمَّ مَاذَا قَالَ۔سَنَا قَالَ حَجٌ مَّبْرُور۔اطرافه: ٢٦۔129 ٢٥-كتاب الحج میں جہاد کرنا۔پوچھا گیا: پھر کونسا؟ فرمایا: وہ حج جو سراسر نیکی اور طاعت شعاری پر مبنی ہو۔١٥٢٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ :۱۵۲۰ عبد الرحمان بن مبارک نے ہم سے بیان الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ أَخْبَرَنَا حَبِيْب کیا ، ) کہا : ( خالد ( بن عبد اللہ طحان) نے ہم سے ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ بیان کیا۔) کہا : ) حبیب بن ابی عمرہ نے ہمیں بتایا۔عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا انہوں نے عائشہ بنت طلحہ سے، انہوں نے حضرت أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ نَرَى الْجِهَادَ عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہم جہاد کو ہر ایک عمل سے أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلَا نُجَاهِدُ قَالَ لَا بڑھ کر دیکھتے ہیں۔کیا ہم بھی جہاد نہ کریں؟ آپ وَلَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌ مَّبْرُورٌ۔نے فرمایا: نہیں ، سب سے بڑھ کر جہاد وہ حج ہے جو سراسر نیکی اور طاعت شعاری پر بنی ہو۔اطرافه ١٨٦١ ، ٢٧٨٤، ٢٨٧٥، ٢٨٨٦۔١٥٢١: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۱۵۲۱ آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ) کہا : ) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سیار ابوالحکم نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: میں نے أَبَا حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ابوحازم سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ ابو هریره رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ مَنْ حَجَّ لِلَّهِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: جس فَلَمْ يَرْفُتْ وَلَمْ يَفْسُقُ رَجَعَ كَيَوْمِ نے اللہ کے لئے حج کیا اور پھر شہوانی بات نہ کی اور نہ احکام الہی کی نافرمانی کی تو وہ ایسا ہی (پاک ہو کر) رَضِيَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ۔اطرافه: ۱۸۱۹، ۱۸۲۰۔لوٹے گا ، جیسا اس دن (پاک) تھا، جس دن اس کی ماں نے اُسے جنا۔تشریح : فَضْلُ الْحَجَ الْمَبْرُورِ : فضلات حج سے متعلق غلط خیال کا ذکر نے کے بعد امام موصوف نے باب نمبر ۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ میں اس حج کو پیش کیا ہے جو حقیقت میں افضل ہے۔